برطانوی شناختی کارڈ: مسودہ منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی دارالعوام میں حکومت کی طرف سے شناختی کارڈ جاری کرنے کے متنازعہ منصوبے کا مسودہ قانون 31 ووٹوں کی اکثریت سےمنظور کر لیا گیا ہے۔ پہلے 67 اکثریتی ووٹوں کی امید کی جا رہی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حزب مخالف کے علاوہ حکمران جماعت کے لگ بھگ بیس اراکین نے اسکی مخالفت میں ووٹ دیا ہے جن میں چار سابق وزرا بھی شامل ہیں۔ حکومت کا استدلال ہے کہ یہ شناختی کارڈ دہشت گردی، غیر قانونی امیگریشن اور دھوکہ دہی سے نمٹنے کے کام آئے گا جبکہ شہری آزادیوں کے حامی گروپوں کا کہنا ہے کہ اس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی راہ کھلے گی اور اس پر لاگت بھی بہت زیادہ آئے گی۔ برطانیہ میں عام انتخابات سے قبل ٹونی بلئیر کی حکومت نے شناختی کارڈ کے نظام کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ میں مسودہ قانون پیش کیا تھا لیکن ملک میں اس کی شدید مخالفت اور خود لیبر پارٹی میں اس کے خلاف بغاوت کے پیش نظر اسے ترک کر دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اب جب کہ نئے انتخابات ہونے والے ہیں یہ بل نئی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا- نئی پارلیمنٹ کے افتتاح پر ملکہ نے اپنے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ شناختی کارڈ کا بل عنقریب پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد ملک میں شناختی کارڈ کے مسئلہ پر بحث چھڑ گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||