’عراق میں القاعدہ خاتمے کی جانب‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں قومی سکیورٹی کے مشیر کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے رہنما ابو مصعب الزرقاری کی موت عراق میں القاعدہ کے خاتمہ کا آغاز ہے۔ قومی سکیورٹی کے مشیر موفق الربیعی کا کہنا ہے کہ الزرقاوی پر حملے اور ان کے ٹھکانے پر مارے گئے چھاپے کے دوران عراق میں القاعدہ اور اس کے رہنماؤں کے بارے میں معلومات پر مبنی اہم دستاویزات سامنے آئی ہیں۔ بغداد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’ہم اب مزاحمتی گروہ کے مقابلے میں زیادہ باخبر ہیں‘۔ عراق میں القاعدہ کے رہنما ابو مصعب الزرقاوی کو گزشتہ ہفتے بعقوبہ میں ایک امریکی فضائی حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ الربیعی کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد اس جگہ سےایک جیبی ہارڈ ڈرائیو، ایک لیپ ٹاپ اور دوسری دستاویزات ملی ہیں اور حاصل ہونے والے ریکارڈ اور دستاویزات عراق میں القاعدہ رہنماؤں کے نام اور ان کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ دوسرے مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر چھاپوں سے بھی بہت مفید معلومات ملی ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ’ہمیں یقین ہے کہ الزرقاوی کی موت عراق میں القاعدہ کے خاتمے کی ابتدا ہے۔ انہیں حملے سے قبل اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ عراقی سکیورٹی فورسز کتنی طاقت ور ہو سکتی ہیں‘۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملنے والی دستاویزات میں سے ایک سے پتہ چلتا ہے کہ الزرقاوی گروہ امریکہ اور ایران کے درمیان جھگڑے کو بڑھاوا دینے کے لیئے ایران کے نام پر جھوٹے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ الزرقاوی کی موت کے بعد بغداد میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے کیونکہ اطلاعات تھیں کہ الزرقاوی کی موت کا بدلہ لینے کے لیئے القاعدہ عراق میں نئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ الزرقاوی کے بعد ابو حمزہ المجاہد کو عراق میں القاعدہ کی باگ دوڑ سونپی گئی ہے اور بعض خبروں کے مطابق انہوں نے ’صلیبیی سرداروں اور شیعوں‘ کو شکست دینےکے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔ بغداد اور قرب و جوار میں ہزاروں کی تعداد میں عراقی اور امریکی سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کردیاگیا ہے۔ پولیس کی جانب سے اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی اور سکیورٹی چیک پوسٹوں پرگاڑیوں کی تلاشی سے علاقے کی سڑکوں پر طویل قطاریں دیکھنے کو ملی ہیں۔ |
اسی بارے میں ’زرقاوی ہتھیار نہیں چلا سکتے‘06 May, 2006 | آس پاس ’الزرقاوی ہلاکت خوش آئند ہے‘08 June, 2006 | آس پاس ابو مصعب الزرقاوی کون تھے؟08 June, 2006 | آس پاس الزرقاوی: خط اور وڈیو سے اقتباسات 08 June, 2006 | آس پاس ’الزرقاوی حملے میں بچ گئے تھے‘09 June, 2006 | آس پاس الزرقاوی کا پوسٹ مارٹم شروع10 June, 2006 | آس پاس ’الزرقاوی کی موت کا بدلہ لیں گے‘11 June, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||