الزرقاوی کا پوسٹ مارٹم شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو امریکی ڈاکٹروں نے عراق میں ہلاک کیئے جانے والے القاعدہ کے اعلٰی ترین رہنما ابومصعب الزرقاوی کا پوسٹ مارٹم شروع کیا ہے۔ امریکیوں کے اس انکشاف کے بعد کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ حملے کے بعد جب عراقی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تھی تو الزرقاوی زندہ تھے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا الزرقاوی کی لاش ان کے ورثاء کے حوالے کی جائےگی یا نہیں۔ عراق میں پر تشدد واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے اور موصل کی ایک دکان میں فائرنگ کرکے پانچ قصابوں کو ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ بغداد بمباری میں تین ہلاک ہوئےہیں۔ امریکہ کی قیادت میں اتحادی فواج کے ترجمان میجر جنرل ولیم کالڈ ویل کا کہنا ہے کہ ابھی پوسٹ مارٹم جاری ہے اور شام تک مکمل ہوجائے گی۔ ’ہم یہ جاننا چاہ رہےہیں کہ زرقاوی کی موت کیسے واقع ہوئی۔ اس کے نتائج پیر کو جاری کیئے جائیں گے‘۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران مسلمانوں کے مذہبی قواعد کا خیال رکھا جائے گا۔ اردن میں کئی سیاسی حلقوں نے الزرقاوی کی ہلاکت پر ان کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے جس پر ایک نیا تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ الزرقاوی کے خاندان والوں نے ان کی موت کو ’شہادت‘ قرار دیا ہے اور ان کی لاش کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ الزرقاوی نے اس سٹریچر سے بھی ہلنے کی کوشش کی تھی جس پر انہیں عراقی پولیس نے ڈالا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ ’سب نے مل کر انہیں واپس سٹریچر پر ڈالا لیکن وہ فوراً ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے‘۔ ترجمان کے مطابق الزرقاوی نے اس دوران چند الفاظ بھی کہے تھے جو کسی کو سمجھ نہ آ سکے‘۔ یاد رہے کہ بدھ کی شام امریکی ایف سولہ طیاروں نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بعقوبہ کے قریب الزرقاوی کے ٹھکانے پر پانچ سو پاؤنڈ وزن کے دو بم گرائے تھے اور اس حملے میں وہ اپنے پانچ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں ’نئی معلومات کا خزانہ ملا ہے‘09 June, 2006 | آس پاس بم حملوں کا خدشہ، بغداد میں کرفیو09 June, 2006 | آس پاس الزرقاوی: خط اور وڈیو سے اقتباسات 08 June, 2006 | آس پاس ’الرزقاوی فضائی حملے میں ہلاک‘ 08 June, 2006 | آس پاس الزرقاوی کا آخری وڈیو 08 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||