’الرزقاوی فضائی حملے میں ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالکی نے اعلان کیا ہے کہ القاعدہ کے سینئرترین رہنما ابو معصب الزرقاوی ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراق میں اتحادی فوج کے سربراہ جنرل جارج کیسی کا کہنا ہے کہ الزرقاوی بعقوبہ سے آٹھ کلومیٹر دور ایک ’سیف ہاؤس‘ پر فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔ ان کو چہرے سے شناخت کیا گیا اوران کے فنگر پرنٹس کی بھی تصدیق ہوگئی ہے۔ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراقی وزیرِ اعظم نے کہا: ’آج ہم نے القاعدہ کے لیڈر الزرقاوی کا خاتمہ کر دیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ الزرقاوی کی موت ہر اس شخص کے لیے ایک پیغام ہے جو تشدد کا علمبردار ہے۔ الزرقاوی کے سر کی قیمت پچیس ملین امریکی ڈالر رکھی گئی تھی اور امریکہ کو مطلوب دہشتگردوی کی فہرست میں ان کا نام بہت اوپر تھا۔ عراق میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ الزرقاوی کی موت عراق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزرقاوی فرقہ واریت کے ان داتا تھے اور اگرچہ الزرقاوی کے خاتمے سے عراق میں تشدد فوری طور پر ختم نہیں ہوگا لیکن عراق کے لیئے ان کی موت ایک اچھا شگون ہے۔ ابو معصب کی موت پر برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے: ’یہ ایک بہت اچھی خبر ہے۔‘ جس کارروائی میں الزرقاوی ہلاک ہوئے ہیں اس کی تفصیلات کا اعلان کچھ دیر بعد کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں اردن: بم حملے الزرقاوی نے کرائے13 November, 2005 | آس پاس الزرقاوی ہلاک ہوئے یا نہیں؟ 22 November, 2005 | آس پاس الزرقاوی غلطی سے رہا: عراقی وزیر16 December, 2005 | آس پاس الزرقاوی کو ہٹا دیا گیا: رپورٹ03 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||