’نئی معلومات کا خزانہ ملا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے رہنما ابومصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد مارے جانے والے کئی چھاپوں میں ان کو نئی معلومات کا ’خزانہ‘ ملا ہے۔ الزرقاوی کو بدھ کے روز بعقوبہ کے قریب ایک فضائی حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کا اعلان جمعرات کو عراقی حکومت اور امریکی فوج کی ایک اخباری بریفنگ میں کیا گیا۔ اس موقع پر الزرقاوی کی لاش کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔ اس فضائی حملے میں الزرقاوی کے علاوہ کم سے کم پانچ اور افراد بھی ہلاک ہوئے۔ہلاک ہونے والوں میں الزرقاوی کے روحانی مشیر شیخ عبد الرحمن کے علاوہ ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے۔ الزرقاوی کے آبائی شہر میں رد عمل بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کے مطابق عراقی اور امریکی اعلان کے بعد الزرقاوی کے خاندان نے کچھ کہنے سے گریز کیا۔ تاہم جب القاعدہ نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی تو ان کے گھر میں سے کچھ نوجوانوں نے نکل کر باہر ایک خیمہ لگایا اور اور اس کے اوپر ’الزرقاوی شہید ‘کا پلےکارڈ لگا دیا اور یوں اس ہلاکت کا اعتراف کر لیا۔ الزرقاوی کی اہلیہ اور چار بچے اس قصبے میں ایک چھوٹے سے دو منزلہ مکان میں رہتے ہیں۔ گھر کے قریب آنے والے صحافیوں پر نوجوانوں نے پتھراؤ کیا اور کئی فوٹوگرافروں کے کیمرے بھی توڑ دیےگئے۔ الجزیرہ کے ایک صحافی خاندان والوں کا انٹرویو کر کے باہر نکلے تو انہیں اردن کے حکام نے فوراً گرفتار کر لیا۔ پورے شہر میں سادہ لباس میں ملبوں پولیس اہلکار لوگوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ شہر میں بیشتر لوگوں نے صحافیوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا تاہم بات کرنے والوں نے زیادہ تر الزرقاوی کی حمایت کی۔ موسٰی نامی ایک شخص نے کہا کہ ’وہ ایک بڑے مجاہد تھے‘ جبکہ ایک میڈیکل سٹوڈنٹ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے وہ ایک منصفانہ مقصد کے لیے لڑ رہے تھے‘۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ الزرقاوی کی لاش ان کے خاندان والوں کو کب دی جائے گی اور ان کی تدفین کہاں ہوگی۔ |
اسی بارے میں ’الزرقاوی کے نائب مقرر نہیں ہوئے‘26 May, 2005 | آس پاس مصعب الرزقوی کو اردن میں سزا20 March, 2005 | آس پاس الزرقاوی کا آخری وڈیو 08 June, 2006 | آس پاس الزرقاوی: اسامہ سے وفاداری کا اعلان18 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||