الزرقاوی فضائی حملے میں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں القاعدہ کے سینئرترین رہنما ابو معصب الزرقاوی بعقوبہ کے شمال میں اتحادی فوج کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ الزرقاوی کی ہلاکت کا اعلان عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالکی ایک پریس کانفرنس بلا کر کیا۔ ان کے ہمراہ اتحادی فوج کے سربراہ جنرل جارج کیسی اور عراق میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد بھی تھے۔ جنرل جارج کیسی نےالزرقاوی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کے رہنما کو بدھ کی شام مقامی وقت کے مطابق سوا چھ بجے بعقوبہ سے آٹھ کلومیٹر دور ایک ’سیف ہاؤس‘ پر فضائی حملے میں ہلاک کیا گیا۔
عراق میں اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل بل کارڈویل نے بعد میں ایک بریفنگ میں کہا کہ فضائی حملے سے پہلے انہیں خفیہ طور اطلاع ملی تھی کہ الزرقاوی اور ان کے ساتھ بعقوبہ کے شمال میں ایک مکان میں ہیں۔ اس علاقے میں گزشتہ شب حملے کیئے گئے جس میں الزرقاوی اور ان کے ساتھی مارے گئے۔ اس حملے میں ایک عورت اور بچہ بھی ہلاک ہوا ہے۔ جمعرات کو الزرقاوی کا ڈی این اے تجزیہ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ الزرقاوی کے بارے میں گزشتہ ایک ماہ سے اطلاعات مل رہی تھیں اور اتحادی افواج ان ان خفیہ اطلاعات پر کام کر رہی تھی۔ جنرل بل کے مطابق الزرقاوی کے ساتھیوں میں ان کے ایک روحانی پیشوا بھی مارے گئے۔
جنرل کیسی کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت الزرقاوی اپنے ساتھیوں سے ملاقات میں مصروف تھے۔ اس حملے میں متعدد دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ الزرقاوی کی لاش کو ان کے چہرے سے پہچانا گیا۔ اس کے علاوہ ان کی انگلیوں کے نشانات سے بھی ان کی شناخت کی تصدیق کی گئی ہے۔ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراقی وزیرِ اعظم نے کہا: ’ آج ہم نے القاعدہ کے لیڈر الزرقاوی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ جو کچھ آج ہوا وہ عراقی عوام کے کامیاب تعاون کا نتیجہ تھا۔ الزرقاوی کی موت ہر اس شخص کے لیے ایک پیغام ہے جو تشدد کا علمبردار ہے‘۔ ابو مصعب الزرقاوی کی ہلاکت کو امریکی صدر، برطانوی وزیر اعظم اور کئی دوسرے رہنماؤں نے ایک اچھی خبر قرار دیا ہے۔امریکی صدر جارج بش نے الزرقاوی کی ہلاکت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ’ امریکیوں کو اپنی فوج پر فخر ہونا چاہیئے۔‘
برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر نے ابو مصعب الزرقاوی کی ہلاکت کو ایک ’شاندار خبر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہلاکت عراق کے لیے بہت اہم ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس ہلاکت کی صورت میں مزاحمت کار اپنی کارروائیاں بند نہیں کریں گے۔ الزرقاوی کے سر کی قیمت پچیس ملین امریکی ڈالر رکھی گئی تھی اور امریکہ کو مطلوب دہشتگردوں کی فہرست میں ان کا نام بہت اوپر تھا۔ عراق میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ الزرقاوی کی موت عراق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزرقاوی فرقہ واریت کے ان داتا تھے اور اگرچہ الزرقاوی کے خاتمے سے عراق میں تشدد فوری طور پر ختم نہیں ہوگا لیکن عراق کے لیئے ان کی موت ایک اچھا شگون ہے۔
القاعدہ کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ابو مصعب الزرقاوی شہید ہو گئے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے الزرقاوی کی ہلاکت سے عراق میں مزاحمت کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ممکن ہے کہ الزرقاوی کے حواری ان کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیئے تشدد کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ |
اسی بارے میں اردن: بم حملے الزرقاوی نے کرائے13 November, 2005 | آس پاس الزرقاوی ہلاک ہوئے یا نہیں؟ 22 November, 2005 | آس پاس الزرقاوی غلطی سے رہا: عراقی وزیر16 December, 2005 | آس پاس الزرقاوی کو ہٹا دیا گیا: رپورٹ03 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||