عراق کی دلدل بحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ملک کے جنوب میں دلدلی علاقے کے ایک بڑے حصے کو بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ انیس سو نوے میں سابق صدر صدام حسین کے حکم پر اس علاقے سے پانی کی نکاسی کر دی گئی تھی جس کے بعد یہ علاقہ ایک صحرا کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ اس دلدلی علاقے میں صدیوں سے آباد عرب جن کو ہزاروں سال تک اپنے آباواجداد کے بارے میں علم تھا یہاں سے ہجرت کر کے ہمسایہ ملک ایران چلے گئے تھے۔ لیکن صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس علاقے سے پشتوں کو ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا تھا جن کو دجلہ اور فرات دریاؤں کے پانیوں کا رخ موڑنے کے لیئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس دلدلی علاقے کی بحالی کے بعد یہاں کے باسیوں نے واپس لوٹنا شروع کر دیا تھا گو کہ اس علاقے میں زندگی انتہائی دشوار ہے اور اس علاقے میں بنیادی ضرورت کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرکار ان لوگوں کی مدد کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے تاہم اس علاقے کے بارے میں طویل البنیاد منصوبوں کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ اس علاقے سے صدام کے دورے میں نکاسی آب اور شیعہ باغیوں کے خلاف کارروائی ساتھ ساتھ شروع کی گئی تھیں جس کا مقصد حکومت کے خلاف کارروائیاں کرنے پر شیعہ آبادی کو سزا دینا تھا۔ عراق کے آبی وسائل کے وزیر عبدالطیف رشید نے کہا کہ یہ ایک جرم تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماحول اس علاقے کے لوگوں اور تاریخ کے خلاف ایک جرم تھا۔
بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ حکام بہت سے علاقے کو اپنی اصلی حالت میں بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ساٹھ فیصد حصہ کو اپنی قدرتی حالت میں بحال کرنے میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔ تاہم کچھ لوگ اس علاقے میں دوبارہ پانی آنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے نکاسی آب کے بعد علاقے میں کھیتی باڑی شروع کر دی تھی۔ انیس سو اکانوے سے قبل اس علاقے کا تقریباً بیس ہزار مربع میل علاقہ زیرِ آب تھا۔ یہ مشرق وسطی کا سب سے بڑا دلدلی علاقہ تھا اور اس کی عالمی سطح پر اپنی ایک ماحولیاتی اہمیت تھی۔ | اسی بارے میں عراقی ملازمین کی اذیت ناک زندگی21 June, 2006 | آس پاس عراقی یکجہتی کا نیا منصوبہ 25 June, 2006 | آس پاس صدام کا ناول ٹوکیو میں دستیاب19 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||