عراق خودکش حملے میں 23 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شمال میں ایک پر ہجوم کیفے میں خود کش حملے میں تئیس افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہوگئے ہیں۔ جس ٹاؤن میں یہ خود کش حملہ ہوا وہ کرکُوک سے پچھتر کلو میٹر دور واقع ہے۔ پولیس کے سربراہ کرنل عباس محمد امین نے بتایا کہ خود کش بمبار نے کیفے میں داخل ہونے کے بعد پانی کا گلاس مانگا اور اسی دوران اسے نے دھماکہ کر دیا۔ عباس امین کا کہنا تھا کہ کیفے جہاں حملہ ہوا، شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد کے قریب واقع ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس خود کش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکن ملبے کے نیچے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر
اس حملے سے قبل بغداد کے شمال میں ایک حملے میں عراقی پولیس کے چار اہلکار ہلاک ہوگئے۔ ایک دوسرے واقعے میں عراق کی وزارتِ تیل کے ایک سینئر اہلکار کو اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ بغداد میں ایک اجلاس میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے۔ دو دنوں میں بغداد میں کسی اہم اہلکار کے اغوا کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ عراق کی اولمپک کمیٹی کے سربراہ احمد الحدیجیہ کو تیس دیگر افراد سمیت ہفتے کے روز اغوا کر لیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں عراق:فرقہ وارانہ تشدد، دس ہلاک11 July, 2006 | آس پاس مغوی عراقی نائب وزیر آزاد ہو گئے04 July, 2006 | آس پاس بغداد: بازار دھماکہ، درجنوں ہلاک01 July, 2006 | آس پاس عراق تشدد: 41 ہلاک، سو زخمی17 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||