BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 July, 2006, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک
مقتدی الصدر
مسلح افراد نے سکیورٹی فورس کے ارکان کی وردیاں پہن رکھی تھیں
عراقی حکام کے مطابق بغداد میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن کی اکثریت سنی علاقوں سے ہے۔

ان میں سے چالیس افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں دارالحکومت میں مسلح افراد نے ایک جعلی چیک پوسٹ پر گولیاں مار کر ہلاک کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بغداد کے مغرب میں واقع جہاد ڈسٹرکٹ میں مسلح افراد نے جعلی چیک پوسٹ پر گاڑیوں کو روکا اور ان میں سے لوگوں کو اتار اتار کر ان کی بطور شیعہ و سنی شناخت کی اور بعد میں سنیوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق مقامی وقت کے صبح دس بجے چار کاروں میں سوار،چند نامعلوم مسلح افراد، مغربی بغداد کے علاقے، جہاد میں داخل ہوئے۔ انہوں نے چہروں پر کالے رنگ کے نقاب اور کالے رنگ ہی کے لباس پہن رکھے تھے۔

انہوں نے عام گاڑیوں کو روکنا شروع کیا، ان میں سوار لوگوں کے شناختی کارڈز دیکھے اور جن لوگوں کے نام سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ سنی ہیں، انہیں کوئی دوسرا سوال کیئے بغیر ہی اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔

عینی شاہدین کے مطابق کچھ دیر تک جاری رہنے والے اس سلسلے میں چند گھروں میں داخل ہو کر بھی گولیاں چلائی گئیں۔ جب ان نامعلوم مسلح افراد نے جہاد کا علاقہ چھوڑا تو وہاں درجنوں افراد کی لاشیں ملیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

تشدد کا نشانہ بننے والے ایسے بھی ہیں جو خوش نصیبی سے بچ گئے ہیں

سنی رہنماؤں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے قتلِ عام قرار دیا ہے۔ کچھ سُنیوں نے اس کی ذمہ داری حکومت کے اتحادی، شیعہ رہنما مقتدی الصدر کے مہدی ملیشیا پر عائد کی ہے تاہم مہدی ملیشیا نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

بغداد میں شام ڈھلنے کے ساتھ ساتھ دھماکوں اور مرنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ لیکن اس دفعہ مرنے والے صرف سنی نہیں شیعہ بھی تھے، جو سنی شدت پسندوں کے انقام کا نشانہ تصور کیے جا رہے ہیں۔

سکیورٹی امور پر عراقی صدر کے مشیر جنرل وافق السمرہ نے ان واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی سفاک کاروائیاں ملک کو
خانہ جنگی کے دہانے پر لے آئی ہیں۔

عراق میں سنیوں کا کہنا ہے کہ بہت سے حملوں میں وہ شیعہ گروہ شامل ہیں جنہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہے تاہم حکومت کی جانب سے ہمیشہ اس طرح کی اطلاعات کی تردید کی جاتی ہے۔

بی بی سی کے جونی ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ جعلی چیک پوسٹ بنا کر لوگوں کو ہلاک کرنے والے مسلح افراد نے سکیورٹی فورس کے ارکان کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔

اذیت ناک زندگی
عراق کے امریکی ملازمین کا المیہ
دعراق پینٹاگون کا انکشاف
عراق میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد
اپریل کا خونی مہینہ
بغداد میں حالیہ تشدد سے ہزار سے زیادہ ہلاکتیں
تشدد قطعی غلط ہے
’امریکہ کا قانون تشدد کی اجازت نہیں دیتا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد