بغداد میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکام کے مطابق بغداد میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن کی اکثریت سنی علاقوں سے ہے۔ ان میں سے چالیس افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں دارالحکومت میں مسلح افراد نے ایک جعلی چیک پوسٹ پر گولیاں مار کر ہلاک کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بغداد کے مغرب میں واقع جہاد ڈسٹرکٹ میں مسلح افراد نے جعلی چیک پوسٹ پر گاڑیوں کو روکا اور ان میں سے لوگوں کو اتار اتار کر ان کی بطور شیعہ و سنی شناخت کی اور بعد میں سنیوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق مقامی وقت کے صبح دس بجے چار کاروں میں سوار،چند نامعلوم مسلح افراد، مغربی بغداد کے علاقے، جہاد میں داخل ہوئے۔ انہوں نے چہروں پر کالے رنگ کے نقاب اور کالے رنگ ہی کے لباس پہن رکھے تھے۔ انہوں نے عام گاڑیوں کو روکنا شروع کیا، ان میں سوار لوگوں کے شناختی کارڈز دیکھے اور جن لوگوں کے نام سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ سنی ہیں، انہیں کوئی دوسرا سوال کیئے بغیر ہی اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کے مطابق کچھ دیر تک جاری رہنے والے اس سلسلے میں چند گھروں میں داخل ہو کر بھی گولیاں چلائی گئیں۔ جب ان نامعلوم مسلح افراد نے جہاد کا علاقہ چھوڑا تو وہاں درجنوں افراد کی لاشیں ملیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
سنی رہنماؤں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے قتلِ عام قرار دیا ہے۔ کچھ سُنیوں نے اس کی ذمہ داری حکومت کے اتحادی، شیعہ رہنما مقتدی الصدر کے مہدی ملیشیا پر عائد کی ہے تاہم مہدی ملیشیا نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ بغداد میں شام ڈھلنے کے ساتھ ساتھ دھماکوں اور مرنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ لیکن اس دفعہ مرنے والے صرف سنی نہیں شیعہ بھی تھے، جو سنی شدت پسندوں کے انقام کا نشانہ تصور کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی امور پر عراقی صدر کے مشیر جنرل وافق السمرہ نے ان واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی سفاک کاروائیاں ملک کو عراق میں سنیوں کا کہنا ہے کہ بہت سے حملوں میں وہ شیعہ گروہ شامل ہیں جنہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہے تاہم حکومت کی جانب سے ہمیشہ اس طرح کی اطلاعات کی تردید کی جاتی ہے۔ بی بی سی کے جونی ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ جعلی چیک پوسٹ بنا کر لوگوں کو ہلاک کرنے والے مسلح افراد نے سکیورٹی فورس کے ارکان کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ |
اسی بارے میں عراق: تشدد میں مزید 25 ہلاک27 June, 2006 | آس پاس مزاحمت کاروں کے منظم حملے27 April, 2006 | آس پاس بغداد دو دھماکوں میں 8 ہلاک03 July, 2006 | آس پاس چیک پوسٹوں پر حملے، 20 ہلاک 04 June, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||