عراق: تشدد میں مزید 25 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تشدد بدستور جاری ہے اور بغداد کے قریبی شہروں حلہ اور بعقوبہ کے نزدیک ہونے والے بم دھماکوں میں کم ازکم پچیس لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ دارالحکومت بغداد کے شمال مشرق میں بعقوبہ کے نزدیک ایک گاؤں میں رکھا گیا بم ایک موٹرسائیکل کے ساتھ باندھا گیا تھا اور اس دھماکے میں کم سے کم سات لوگ ہلاک جبکہ کئی اور زخمی بھی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کئی بچے بھی ہیں۔ ایک اور بم دھماکے میں جو بغداد کے جنوب میں واقع شہر حلہ کے ایک مصروف کاروباری علاقے میں ہوا، سات لوگ ہلاک ہوگئے۔ ملک کے دوسرے حصوں میں گیارہ مزید افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ تشدد کے یہ واقعات عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی جانب سے ملک میں یکجہتی کو فروغ دینے کے ایک ایسے منصوبے کے بعد پیش آرہے ہیں جس کا مقصدعراق میں فرقہ ورانہ تشدد کو ختم کرنا بتایا جاتا ہے۔ تازہ حملوں میں نشانہ بنائے گئے علاقے ملی جلی سنی اور شیعہ آْادیوں کے علاقے ہیں اور ملک کے یہ حصے تشدد سے بدترین متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ | اسی بارے میں عراق سے انخلاء، قرارداد مسترد22 June, 2006 | آس پاس عراق بم حملے، سولہ افراد ہلاک23 June, 2006 | آس پاس کرکک بم دھماکہ، عراقی جنرل ہلاک24 June, 2006 | آس پاس عراقی یکجہتی کا نیا منصوبہ 25 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||