’آپریشن ٹوگیدر فارورڈ‘ کتنا موثر؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی اب عراقی فوج کے ساتھ ایک نئے آپریشن کے لیئے کام کررہے ہیں جس کا مقصد ہے عراقی دارالحکومت بغداد کو جنگجوؤں اور بمباروں سے خالی کروانا۔ یہ ’آپریشن ٹوگیدر فارورڈ‘ یا ’ساتھ مل کر آگے بڑھنا‘ ہے۔ اس آپریشن میں 12000 مزید فوجیوں کو استعمال کیا جارہا ہے جو ایک علاقے کے بعد دوسرے میں اپنی کارروائی کرتے جارہے ہیں۔ یہ فوجیں بغداد کے چند حصے عسکریت پسندوں سے واپس لینا چاہتی ہیں۔ عراق کی نئی قائم کی گئی حکومت کے اختیارات موثر بنانے، اتحادی فوج کے اختیار عراقی رہنماؤں کے حوالے کرنے اور خانہ جنگی سے بچنے کے لیئے یہ لازمی ہے۔ فوجوں نے اس سلسلے میں کچھ کامیابی کا دعوٰی تو کیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ کچھ علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں کم ہوئی ہیں اور کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔ لیکن سول یہ ہے کہ یہ فوجیں درحقیقت کس کے خلاف آپریشن کررہی ہیں۔
بغداد اور دیگر شہروں میں حالیہ تشدد کے واقعات فرقہ واریت پر مبنی ہیں۔ شیعہ بمقابلہ سنی گروہ۔ یہ واقعات فروری میں سمارا میں ایک مزار پر حملے کے بعد شروع ہوئے ہیں۔ اب تک عراق میں ہزاروں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ مذہبی طور پر ملی جلی آبادی والے علاقوں سے لاکھوں لوگ دوسرے علاقوں میں منتقل ہوچکےہیں جہاں ان کے خیال میں وہ محفوظ ہیں اور جہاں ان کے اپنے فرقہ کے لوگوں کی اکثریت ہے۔ تشدد کے کچھ واقعات کا تعلق سیاستدانوں سے منسلک گروہوں سے ہے۔ تاہم تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بعض اوقات یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ تشدد آمیزی فرقہ واروانہ ہے یا نسلی۔ لیکن فی الوقت تو فرقہ وارانہ تشدد دیگر تمام کارروائیوں پر حاوی ہوچکا ہے۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد وزیراعظم نوری المالکی کی کوششوں کے باوجود سنی گروہوں کی دراندازی بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعظم نے صدر سٹی میں امریکی اور عراقی فوجی آپریشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ’موت کے ٹولوں‘ کی تلاش میں ہیں جنہوں نے یہاں کے رہائشیوں کو خوفزدہ کررکھا ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ ان کے دروازوں پر کسی بھی وقت دستک ہوگی اور انہیں گولی سے اڑا دیا جائے گا‘۔ صدر سٹی میں شیعہ اکثریت میں ہیں اور یہاں مقتدٰی الصدر کی بھاری حمایت ہے۔ حکمراں اتحاد کے لیئے مقتدٰی الصدر کی حمایت نہایت ضروری ہے۔
اس آپریشن کی حالیہ ترین کارروائی کے بعد امریکیوں اور وزیر اعظم کے درمیان سیاسی اختلافات واضح ہوگئے ہیں۔ اگر ’آپریشن ٹوگیدر‘ میں فوجیں کامیاب ہو بھی جائیں تب بھی شہر کی گلیوں میں ایسے گروہوں کی کمی نہیں جو کسی نہ کسی کے مفادات کے تحفظ کے لیئے سرگرم ہیں۔ اور ایسے سیاسی گروہوں کو ان کی کارروائیوں سے باز رکھنا یا پھر غیر مسلح کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اب ایک نئی بحث بھی زور پکڑ گئی ہے۔ شیعہ ملیشیا کے سربراہ اور وزیر ہادی العامری نے کہا ہے کہ ایسی مقامی کمیٹیاں قائم کی جائیں جو اپنے لوگوں کو مقامی طور پر سکیورٹی فراہم کریں گے۔ یعنی شیعہ اپنے شیعہ محلے کا دفاع کریں اور سنی اپنے محلے کا۔ عام عراقی شہریوں کے لیئے، جن کے پاس اپنے دفاع کے لیئے کم از کم ایک بندوق ضرور موجود ہے، اپنا ذاتی دفاع سب چیزوں سے زیادہ اہم ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم کی ایسی پوزیشن نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرواسکیں۔ | اسی بارے میں بغداد کے لیئے مزید امریکی فوجی07 August, 2006 | آس پاس بغداد میں چالیس ہزار فوجی تعینات14 June, 2006 | آس پاس بغداد میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک 09 July, 2006 | آس پاس بغداد میں دھماکے، 19 ہلاک08 August, 2006 | آس پاس بصرہ میں ہنگامی حالت کا نفاذ31 May, 2006 | آس پاس بصرہ میں ہنگامے، پانچ عراقی ہلاک، کئی زخمی06 May, 2006 | آس پاس بصرہ میں کرفیو: پانچ عراقی ہلاک 06 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||