بغداد کے لیئے مزید امریکی فوجی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں نئے حفاظتی منصوبے کے تحت مزید امریکی فوجی تعینات کیئے گئے ہیں اور انہوں نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کم از کم چار ہزار مزید امریکی فوجی بغداد میں تعینات کیئے جا رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور اغوا کی وارداتوں کو روکنے کے لیئے کی جانے والی ان تعیناتیوں کو بغداد کے لیئے نئے حفاظتی منصوبے کے اولین آثار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بغداد میں جب امریکی فوجیوں نے گرفتاریوں کے لیئے ایک ایسے علاقے پر چھاپہ مارا جو شیعہ اکثریت کا علاقہ کہا جاتا ہے تو لڑائی شروع ہو گئی۔ اتوار کو بھی بقعوبہ شہر میں مسلح افراد نے ایک چوکی پر حملہ کر کے چھ عراقی سپاہیوں کو ہلاک اور پندرہ کو زخمی کردیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے فوجی جنرل ابی زید کا کہنا ہے کہ اگر فرقہ واریت کو نہ روکا گیا تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔ عراق سے بی بی سی کے پال ووڈ کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی افواج کے کسی اتنے اعلیٰ افسر نے پہلی بار سرِ عام خانہ جنگی کے امکان کی بات کی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جولائی میں در حقیقت 1500 افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن یہ تعداد گزشتہ دو مہینوں مئی اور جون کی تعداد سے کم ہے۔ امریکی کمانڈر اسے حالات میں بہتری سے تعبیر کرتے ہیں جب کہ اس کی یہ تعبیر بھی کی جا رہی ہے کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد عدم تحفظ کی وجہ سے شہر چھوڑ کر جا چکی ہے کہ فرقہ ورانہ تصادم کا امکان ہی کم ہو گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ ماہ کے آخری دس روز کے دوران ہی 20 ہزار کے قریب لوگ شہر چھوڑ کر گئے ہیں۔ | اسی بارے میں امریکی فوجی، زنا بالجبر کی کارروائی06 August, 2006 | آس پاس عراق: حزب اللہ کے حق میں مظاہرہ04 August, 2006 | آس پاس عراق: تقسیم ،خانہ جنگی کےخدشات 03 August, 2006 | آس پاس عراق: ہزاروں جانیں ضائع 16 June, 2006 | آس پاس عراقی یکجہتی کا نیا منصوبہ 25 June, 2006 | آس پاس عراق کی دلدل بحال28 June, 2006 | آس پاس مغوی عراقی نائب وزیر آزاد ہو گئے04 July, 2006 | آس پاس عراق کا القاعدہ سربراہ جیل میں09 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||