عراق: تقسیم ،خانہ جنگی کےخدشات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈر جنرل جان ابی زید کے عراق میں اگر فرقہ وارنہ تشدد نہ رکا ہوا تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ عراقی حکومت اور عراقی فوج امریکہ کی مدد سے صورتحال کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کچھ اسی طرح کا پیغام برطانیہ کے عراق میں سبکدوش ہونے والے سفیر نے بھی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے نام ایک خفیہ دستاویز میں دیا ہے۔ سفیر نے عراق کی نسلی بنیادوں پر تقسیم کی پیشنگوئی کی ہے۔
امریکہ نے حال ہی میں سینتیں سو فوجیوں کو موصل سے بغداد منتقل کیا ہے تاکہ وہاں کی سیکیورٹی کو بہتر کیا جا سکے۔ امریکی فوج کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل پیٹر پیس نے کہا کہ عراق میں خانہ جنگی ہونے یا نہ ہونے کا انحصار عراقیوں پر ہی ہے۔ اس موقع پر امریکی وزیر دفاع ڈانلڈ رمزفلڈ بھی موجود تھے جنہوں نے خانہ جنگی کے امکان پر برا راست کوئی بات نہیں کی لیکن انہوں نے امریکی فوج کو عراق سے قبل از وقت نکالنے کے خلاف متنبہ کیا۔ برطانیہ کے عراق سے واپس آنے والے سفیر نے اپنے آخری سفارتی پیغام میں کہا کہ موجودہ حالات میں عراق میں کم درجے کی خانہ جنگی اور ملکی تقسیم کا امکان مستحکم جمہوریت کہ قیام سے زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ | اسی بارے میں عراق میں خانہ جنگی نہیں: بش21 March, 2006 | آس پاس خانہ جنگی شروع ہوچکی ہے: علاوی19 March, 2006 | آس پاس عراق:فرقہ وارانہ تشدد، دس ہلاک11 July, 2006 | آس پاس عراق: خدشات جو حقیقت بن گئے10 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||