بصرہ میں ہنگامی حالت کا نفاذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے بصرہ میں فرقہ وارانہ تشدد اوربڑھتی ہوئی لاقانونیت کو روکنے کے لیئے شہر میں ہنگامی حالات کا نفاذ کر دیا ہے۔ بصرہ کے دورے کے دوران نوری المالکی نے شہر میں ایک ماہ کی ایمرجنسی یا ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو آہنی ہاتھ سے نبٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح گروہوں نے شہر کی تیل کی درآمدات اور دوسری تجارت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ بصرہ شہر میں جسے کچھ عرصہ پہلے تک محفوظ اور پر امن تصور کیا جاتا تھا گزشتہ ماہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حالیہ مہینوں میں شہر میں تعینات آٹھ ہزار برطانوی فوجیوں اور شیعہ آبادی میں تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ مئی کے مہینے میں بصرہ میں نو برطانوی فوجی ہلاک ہو ئے۔ بی بی سی کے ائین پینل نے کہا ہے کہ شہر کے کئی علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی بنا پر کئی سنی مساجد بند ہو گئی ہیں اور مختلف شیعہ دھڑوں میں طاقت کی رسہ کشی کی بنا پر بھی تناؤ پایا جاتا ہے۔ایک شیعہ دھڑے نے عراقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیل کی درآمدات کو بھی نقصان پہنچانے کی دھمکی ہے۔ امریکی خبررساں ادارے کے مطابق بصرہ پہنچنے پر سات سو کے قریب مقامی سیاستدانوں، قبائلی شیوخ اور عمائدین نے نوری المالکی کا استقبال کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ امن واماں کی بحالی ان کی پہلی دوسری اور تیسری ترجیح ہے اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نبٹنے کے لیئے منصوبہ بندی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ امن و اماں کی صورت حال کو خراب کریں گے ان کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نبٹا جائے گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات کے نافذ کا مطلب بصرہ شہر کی گلیوں میں مزید پولیس اور فوج کی تعیناتی، مزید چوکیوں کی تعمیر اور گشت میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا ہنگامی حالات میں برطانوی فوج کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی یا یہ سب انتظامات عراقی دستے ہی کریں گے۔ نامہ نگاروں کے مطابق شہر میں امن بحال کرنا نئے وزیر اعظم کا ایک امتحان ثابت ہو گا۔ | اسی بارے میں حدیثہ: قتل عام کی تحقیقات ہوگی30 May, 2006 | آس پاس حدیثہ کی آنکھوں دیکھی تفصیل 31 May, 2006 | آس پاس تفصیلات سامنے لائیں گے: امریکہ 31 May, 2006 | آس پاس عراق میں چالیس لاشیں برآمد31 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||