عراق، ویتنام موازنہ ہو سکتا ہے: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے اعتراف کیا ہے کہ عراق میں بڑھتا ہوا تشدد ویت نام جنگ کے دوران امریکہ کی دکھ بھری یادوں کا عکاس ہیں۔ جارج بش نے اعتراف کیا کہ عراق میں مزاحمت کاروں کے حملوں کا موازنہ 1968 میں ویت نام کے باغیوں کی مہم سے کیا جاسکتا ہے جب امریکی عوام ویت نام جنگ کے مخالف ہوگئے۔ جب صدر بش سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ ایک کالم نویس کی اس بات سے متفق ہیں کہ عراق کے حالات ویت نام کے حالات جیسے ہیں تو ان کا جواب تھا: ’وہ صحیح ہوسکتے ہیں۔ تشدد میں یقینا اضافہ ہوا ہے۔‘ تاہم اے بی سی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے اس بات سے انکار کیا کہ عراقی شہریوں اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا مطلب عراق میں امریکہ کی ناکامی ہے۔ امریکی صدر نے یہ بات دہرائی کہ عراق میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود امریکی افواج عراق میں ہی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’القاعدہ عراق میں ابھی بھی کافی سرگرم ہے۔۔۔ وہ صرف امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کی کوشش نہیں کررہے، بلکہ وہ فرقہ وارانہ تشدد بھی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘ جارج بش کا بیان اس واقعے کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں مزید گیارہ امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس طرح صرف اکتوبر میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ستر ہوگئی ہے۔ | اسی بارے میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا اعلان 15 October, 2006 | آس پاس عراق: بم حملے میں چار ہلاک18 October, 2006 | آس پاس ایک تہائی دنیا تشدد کی حامی19 October, 2006 | آس پاس عراق: تھانے پر حملہ، 12 ہلاک19 October, 2006 | آس پاس ریپ کیس: گیارہ امریکیوں پر مقدمہ19 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||