BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 10:22 GMT 15:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق، ویتنام موازنہ ہو سکتا ہے: بش
جارج بش کا اصرار ہے کہ امریکی افواج ابھی عراق میں رہیں گی
امریکی صدر جارج بش نے اعتراف کیا ہے کہ عراق میں بڑھتا ہوا تشدد ویت نام جنگ کے دوران امریکہ کی دکھ بھری یادوں کا عکاس ہیں۔

جارج بش نے اعتراف کیا کہ عراق میں مزاحمت کاروں کے حملوں کا موازنہ 1968 میں ویت نام کے باغیوں کی مہم سے کیا جاسکتا ہے جب امریکی عوام ویت نام جنگ کے مخالف ہوگئے۔

جب صدر بش سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ ایک کالم نویس کی اس بات سے متفق ہیں کہ عراق کے حالات ویت نام کے حالات جیسے ہیں تو ان کا جواب تھا: ’وہ صحیح ہوسکتے ہیں۔ تشدد میں یقینا اضافہ ہوا ہے۔‘

تاہم اے بی سی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے اس بات سے انکار کیا کہ عراقی شہریوں اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا مطلب عراق میں امریکہ کی ناکامی ہے۔

امریکی صدر نے یہ بات دہرائی کہ عراق میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود امریکی افواج عراق میں ہی رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’القاعدہ عراق میں ابھی بھی کافی سرگرم ہے۔۔۔ وہ صرف امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کی کوشش نہیں کررہے، بلکہ وہ فرقہ وارانہ تشدد بھی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

جارج بش کا بیان اس واقعے کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں مزید گیارہ امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس طرح صرف اکتوبر میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ستر ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد