’امریکہ آنکھیں بند نہ کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے صدر بش پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے فوجی حکمران صدر مشرف سے اپنی ملاقات کے دوران پاکستان میں اقتدار عوام کے حقیقی نمائندوں کو منتقل کرنے، ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروانے اور عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین کو ختم کرنے کے لیئے دباؤ ڈالیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر بش کو مشرف حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان میں سیاسی تنازعات میں لوگوں کی گمشدگیوں اور تشدد کے استعمال کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیاء کے ڈائریکٹر براڈ ایڈمز نے کہا کہ اگر صدر بش اسلامی ممالک میں جمہوریت کے فروغ کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو وہ کس طرح مشرف حکومت کی طرف سے پاکستان میں اقتدار کو عوامی نمائندوں کو منتقل کرنے سے انکار کی حمایت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو چاہیے کہ وہ صدر مشرف پر واضح کردیں کہ امریکہ ماضی کی طرح پاکستان میں غیر جمہوری اقدامات پر خاموش تماشائی نہیں بنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ماضی قریب میں صدر مشرف کی طرف سے پاکستان میں آئین کی پامالی اور ملک میں فراڈ الیکشن کروانے کے وقت کیا تھا۔
بیان میں یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان میں آئین کے تحت فوج کا سربراہ کوئی سیاسی عہدہ نہیں رکھ سکتا۔ اس بیان میں یہ بات بھی یاد دلائی گئی کہ صدر مشرف نے سن دو ہزار تین میں فوج کے سربراہ یا صدر کے عہدوں میں سے ایک سے علیحدہ ہونے کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں وہ اس وعدے سے منحرف ہو گئے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ صدر مشرف اور ان کے حواری سیاست دانوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر مشرف عام انتخابات کے لیئے طے شدہ تاریخ دوہزار سات کے بعد بھی دونوں عہدے اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجاویز بھی دی جا رہی ہیں کہ صدر یا تو موجودہ پارلیمان سے ہیں اپنے آپ کو دوبارہ منتخب کرلیں یا پھر موجودہ پارلیمان صدر کو سن دو ہزار آٹھ میں دوبارہ منتخب کرنے کے لیئے یک طرفہ طور پر اپنی مدت میں ایک سال کا اضافہ کرلیں۔ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ باوجود کئی یقین دہانیوں کے صدر مشرف اب تک عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین کو ختم نہیں کر سکے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا کہ بدنام زمانہ حدود آرڈننس کے تحت ہزاروں کی تعداد میں خواتین کو پابند سلاسل کیا گیا۔ تنظیم نے مزید کہا زنا کا نشانہ بننے والی خواتین کے لیئے انصاف کا حصول ان قوانین کی موجودگی میں ناممکن ہو گیا ہے اور اس قانون کی موجودگی میں مظلوم خواتین کو مجرم تصور کیا جاتا ہے۔ براڈ ایڈم نے کہا کہ اگر صدر مشرف خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں قومی اسمبلی میں اکثریتی ارکان کی حمایت حاصل کرنا چاہیے جو ان قوانین میں اصلاحات کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس پاکستان میں حکمران جماعت مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی خواہاں ہے جو ان قوانین کو جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں پاکستانی فوج کی طرف سے کی جاتی ہیں۔ ان خلاف ورزیوں میں ماورائے عدالت قتل، تشدد، بلا روک ٹوک گرفتاریاں اور سیاسی مخلافین کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔ پاکستانی فوج اور حفیہ اداروں نے مبینہ طور پر بلوچستان میں جاری بلوچ تحریک کو دبانے کے لیئے درجنوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا یا وہ پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے کی جانے والی کارروائیوں میں بھی ملک کے مختلف شہروں سے بہت سے لوگوں کو اٹھالیا گیا یا ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم کے مطابق اس طرح کی کارروائیوں میں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ اداروں کے اہلکار بھی ملوث ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لوگوں کے اغواء، تشدد اور غیر قانونی گرفتاریوں کے طریقوں کو ختم کرنے کے لیئے ٹھوس اقدامات کریں۔ براڈ ایڈم نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کو اس جنگ میں قانون کی پاسداری کرنی چاہیے نہ کہ جنگل کے قانون کی۔ |
اسی بارے میں حکومت، پولیس اور آزادئ صحافت19 September, 2006 | پاکستان ’حدود بل پر پسپائی اختیار نہیں کی‘20 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||