دہشت گرد کو40مرتبہ سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے اکتوبر دو ہزار چار میں ملتان کی رشید آباد کالونی میں ہونے والے بم دھماکے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو چالیس مرتبہ سزائے موت، دس سال قید با مشقت اور دو کروڑ چالیس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ سال دو ہزار چار میں سات اکتوبر کی صبح رشید آباد کالونی میں اس وقت ایک زوردار بم دھماکہ ہوا تھا جب سینکڑوں لوگ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے رہنما مولانا اعظم طارق کی پہلی برسی کے سلسلے میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کر کے جلسہ گاہ سے نکل رہے تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں چالیس افراد ہلاک اور تہتر زخمی ہو گئے تھے۔
پبلک پراسیکیوٹر نجف علی نے بتایا کہ مقدمے کی سماعت کمرہ عدالت کی بجائے ملتان سنٹرل جیل میں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی طرف سے اٹھاسی جبکہ ملزم کے دفاع میں صرف دو گواہ پیش ہوئے۔ استغاثہ کے گواہوں میں سے پانچ ایسے تھے جنہوں نے شناخت پریڈ میں ملزم کی پہچان کی تھی۔ | اسی بارے میں ہرجرم دہشت گردی نہیں: ہائی کورٹ17 January, 2004 | پاکستان دہشت گردی کے الزام میں سزا12 October, 2004 | پاکستان ’دنیا پہلے سے کم محفوظ ہے‘06 December, 2004 | پاکستان صحافی دہشتگردی کی عدالت میں13 February, 2004 | پاکستان دہشت گردی: ایک اور مہم کیوں؟16 July, 2005 | پاکستان سڑکیں ویران، ہر کوئی محتاط13 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||