دہشت گردی کے الزام میں سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے حرکت المجاہدین العالمی کے مبینہ رکن کامران عاطف کو دھماکہ خیز مواد رکھنے، پولیس پر فائرنگ کرنے اور ایک راہ گیر عورت کو ہلاک کرنے کے جرم میں عمر قید اور جائیداد کی ضبطگی کی سزا سنائی ہے۔ کامران عاطف پر الزام ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف پر 2002 میں شاہراہ فیصل پر ناکام قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کی سازش میں بھی ملوث ہے مگر ابھی تک ان پر اس الزام میں فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔ کامران کو کراچی پولیسں نے اس سال انیس مئی کو بفر زون کے علاقے سے ایک پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ اس مقابلے میں ایک راہ گیر عورت سرور بی بی ہلاک ہوئی تھی۔ کامران عاطف کے سر پر تیس لاکھ روپے انعام تھا اور وہ پولیس کو دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں مطلوب تھے ۔عدالت نے ملزم کو پولیس پر فائرنگ کے الزام میں علیحدہ سے دس سال قید کا حکم دیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج حق نواز بلوچ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ کامران عاطف پر عائد الزامات کے حوالے سے استغاثہ کے پیش کردہ مواد سے ثابت ہوتا ہے کہ کامران عاطف دھماکہ خیز مواد رکھنے، پولیس پر فائرنگ کرنے اور ایک راہ گیر عورت کی حادثاتی موت کا ذمہ دار ہے۔ عدالت نے ملزم کو سرور بی بی کے اہل خانہ کو دو لاکھ پچھتر ہزار روپے دیت دینےکا بھی حکم دیا ہے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ انہیں کامران عاطف کے قبضے سے سولہ ہینڈ گرنیڈ، ایک کلاشنکوف، راکٹ سے داغے جانے والے پانچ گرنیڈ، چار فون بم، ایک وڈیو بم اور 25 بم بنانے کے الیکٹرونک سرکٹ ملے تھے۔ اس کے علاوہ کامران کے پاس سے بم اور دیگر اسلحہ بنانے سے متعلق 150 کتابیں بھی برامد ہوئی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||