BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 September, 2006, 17:36 GMT 22:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت، پولیس اور آزادئ صحافت

پریس فریڈم
میڈیا کی آزادی؟
گزشتہ دو روز سے نجی ٹی وی ’اے آر وائی‘ کے چینلوں کی پنجاب بھر میں بندش سے یہ بات زیادہ واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان میں آزادی صحافت حکومت کی صوابدید کے نازک دھاگے سے بندھی ہوئی ہے۔


پنجاب میں پولیس نے ایسی پابندی نافذ کروائی ہے جس کا قانون اسے اختیار نہیں دیتا اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی نہیں بلکہ پولیس کی حکمرانی ہے۔

پاکستان میں میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پیمرا کے علاقائی چیف کمال الدین ٹیپو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ادارہ نے ’اے آر وائی‘ کی نشریات پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔

پنجاب کی کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پیمرا نے ان پر پابندی نہیں لگائی بلکہ پولیس نے کیبل آپریٹروں کو حکم دیا ہے کہ وہ ’اے آر وائی‘ کے چینل نہ دکھائیں اور پولیس کا حکم آپریٹرز نہیں ٹال سکتے۔

جو لوگ پولیس کے کام کرنے کے طریقہ کار سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ صوبائی حکومت کے حکم کے بغیر پولیس ایسا قدم اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتی۔

دراصل صوبائی حکومت نے ایک ٹی وی چینل پر اس لیے پابندی لگائی کہ وہ اس کے خیال میں وزیراعلی کے امیج کو نقصان پہنچا رہا تھا۔

چینل نے یہ گستاخی کی تھی کہ اپنے رپورٹر کی پٹائی پر ملک بھر کے صحافیوں کے تبصرے نشر کردیے جس میں پنجاب حکومت پر تنقید بھی شامل تھی۔

ایک ٹی وی چینل کو بند کرانے کے لیے صوبائی حکومت کو پولیس کا سہارا اس لیے لینا پڑا کہ الیکٹرانک میڈیا محض صوبائی حکومتوں کے اشتہاروں کے سہارے نہیں چلتا جیسا کہ اخبارات کا زیادہ تر انحصار حکومتی اشتہارات پر ہوتا ہے۔

پنجاب حکومت کا خیال ہے کہ اگر ایک ٹی وی چینل صوبہ بھر میں بند رہے گا تو اس کی اشتہاروں کی آمدن کم ہوجائے گی اور وہ اس کے سامنے جھک جائے گا۔

کچھ عرصہ پہلے ملک کے ایک بڑے روزنامہ نوائے وقت پر سرکاری اشتہار بند کردیے گئے تھے۔ اس پابندی سے اخبار کو کروڑوں روپے کی آمدن سے محروم کیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ اخبار حکومت پر سخت تنقید کرتا رہا ہے۔

یہ سرکاری اشتہاروں کی ہی کرامات ہیں کہ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کا بیان اخباروں کے صفحہ اول پر نمایاں طور پر شائع نہ ہوتا ہو۔

حکومت کے ہاتھ میں سرکاری اشتہاروں کی بندش ایک بڑا آلہ ہے جس کی مدد سے اخباروں کو کنٹرول میں رکھا جاتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے محکموں ’پی آئی ڈی‘ اور ’ڈی جی پی آر‘ کے ہاتھ میں کروڑوں روپے کے صوابدیدی فنڈز اس کے علاوہ ہیں جو حکومت صحافیوں اور اخباروں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت ماضی کی فوجی حکومتوں سے اس لحاظ سے مختلف رہی ہے کہ انہوں نے میڈیا پر اس طرح کا کھلم کھلا پابندیاں عائد نہیں کیں جو جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاءالحق کا وطیرہ تھا اور نہ ہی ان کے دور میں صحافیوں کو کوڑے مارے گئے جیسا کہ ضیاء دور میں ہوا تھا۔

جنرل پرویز مشرف نے اپنے سات سالہ دور اقتدار کے ایک کارنامے کے طور پر ہمیشہ یہ کہا ہے کہ ان کے دور میں الیکٹرانک میڈیا نے زبردست ترقی کی ہے۔

تاہم یہ بات جزوی طور پر درست ہے کیونکہ ان ٹی وی چینلوں کی راہ میں حکومت کی جانب سے جو رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں ان کی وجہ سے یہ چینل بیرون ملک سے نشریات چلانے پر مجبور ہیں۔

ابھی تک پاکستان میں کسی کو اینٹینا کی مدد سے چلنے والے ٹی وی چینل کھولنے کی اجازت نہیں جو ہر خاص و عام جگہ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ نجی چینل صرف سیٹلائیٹ کے ذریعے نشریات دکھا سکتے ہیں اور اس طرح کی نشریات دیکھنے کی سہولت قدرِ کم ہے۔

ملک میں نجی چینلوں کو اب تک باضابطہ طور پر ’اپ لنکنگ‘ کی اجازت نہیں مل سکی جو صرف سرکاری ٹی وی چینل کے پاس ہے۔ اس پابندی کی وجہ سے عام طور پر کوئی نجی چینل کسی واقعہ کی براہ راست نشریات نہیں دکھا سکتا۔

ابھی تو ملک میں عام انتخابات کی گرما گرمی شروع نہیں ہوئی لیکن حسب توقع اگلے سال جب وہ وقت آئے گا تو حکومت اس الیکٹرانک میڈیا کی آزادی کو کتنا برداشت کرسکےگی یہ تو تب ہی پتہ چلے گا۔

فی الحال ایک ٹی وی چینل کی پولیس کے ذریعے بندش سے مستقبل میں میڈیا کی آزادی کے بارے میں خدشات کم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

حیات اللہ’صحافتی آزادی قتل‘
حیات اللہ کے قتل کی شدید مذمت ہوئی ہے
میرے احساسات
حیات اللہ کو مددگار پایا: ہارون رشید
وزیرستان وزیرستان کا سچ
سرکار، قبائلی ملک اور ملا کا محتاج میڈیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد