’پاکستان، صحافیوں کیلیئے خطرناک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا سے دنیا بھر کے صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فریڈم آف ایکسپریشن ایکسچینج یا آئی فیکس ifex.org اور امریکہ سے دنیا بھر میں صحافیوں اور پریس آزادیوں کے تحفظ کے لیئے کام کرنے والی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ یا سی پی جے نے کہا ہے کہ پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیئے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ ان بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے پاکستان میں صحافیوں کو درپیش موجودہ صورتحال پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں نے حال ہی میں پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بی بی سی اردو سروس کے صحافی دلاور خان وزیر کے پندرہ سالہ بھائی تیمور خان کی پراسرار ہلاکت کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور اس قتل کی مکمل چھان بین کرانے کے لیئے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے۔ سی پی جے اس قتل کی تحقیقات کے لیئے مسلسل سرگرم ہے اور ادارے نے اس سلسلے میں عالمی سطح پر اجتجاج جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق پاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں صحافیوں کو سخت ترین حالات کا سامنا ہے۔ صحافتی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اکثر ان افراد کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اس دوران کئی صحافی اپنی جانیں بھی گنوا چکے ہیں۔ ٹورانٹواور نیویارک سے ان تنظیموں کے جاری کیئے جانے والے بیانات میں سی پی جے اور آئی فیکس نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے خلاف کارروائیوں میں دن بدن شدت آرہی ہے۔ ’اس علاقے میں تشدد اور خلاف قانون وارداتوں کی وجہ سے صحافی بہت زیادہ غیر محفوظ ہیں‘۔ آئی فیکس کے مطابق سن 2002 سے اب تک پاکستان میں آٹھ صحافی قتل ہوچکے ہیں جن میں سے چار کو قبائلی علاقوں میں قتل کیا گیا۔ جون میں اغواء کیئے گئے صحافی حیات اللہ کے مردہ پائے جانے کی خبروں پر آئی فیکس کو سخت صدمہ پہنچا۔ آئی فیکس اب مسلسل پاکستان کی صحافتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں موجود صحافیوں کو درپیش مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں آئی فیکس کا خصوصی شعبہ پاکستان میں صحافت اور صحافیوں کی صورتحال پر اپنی رپورٹیں مرتب کرتا ہے تاکہ صحافیوں کو درپیش مسائل اور پابندیوں سے نمٹنے کے لیئے عالمی سطح پر پاکستانی صحافیوں کی آواز بلند کی جاسکے۔
اس سال کے آخر میں کینیڈا میں ہونے والی صحافیوں کی عالمی کانفرنس کے دوران پاکستانی نژاد صحافی اور پروڈیوسر محسن عباس چودھری کی تیار کردہ دستاویزی فلم بھی نمائش کے لیئے پیش کی جائے گی۔ کینیڈین صحافتی تنظیم کے تعاون سے تیار کردہ اس فلم میں پاکستان اورخصوصًا قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے قتل عام اور ان کو درپیش مشکلات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ سی پی جے کی پریس ریلیز کے مطابق سرکاری سطح پر صرف امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے کیس کو توجہ دی گئی مگر باقی سات صحافیوں کے قتل کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا ہے۔ ’امریکی صحافی کے قتل کے ذمہ دار افراد کو سزائیں صرف اور صرف امریکی حکام کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے مل سکیں مگر دیگر صحافیوں کے ورثاء کو حکومتی افراد نے وعدوں پر ہی ٹال دیا‘۔ ’مقامی صحافیوں نے سی پی جے کو بتایا تھا کہ ماضی میں بھی دلاور خان کے گھر اور نجی سکول کے باہر نامعلوم افراد بم دھماکے کر چکے ہیں جبکہ ان کو تحریری دھمکیاں بھی ملی تھیں۔ اس لیئے صحافی کے بھائی کا قتل بھی اس کے کام سے متعلق ہوسکتا ہے۔ سی پی جے اس قتل کی مکمل تحقیقات کے لیئے مسلسل سرگرم ہے اور اس واقعہ کی بھرپور چھان بین کے لیئے عالمی سطح پر اجتجاج جاری رکھے گی‘۔ | اسی بارے میں کراچی میں آزادی صحافت ریلی09 August, 2005 | پاکستان آزادی کی ضرورت کیا ہے؟ 16 September, 2005 | قلم اور کالم پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے برا15 November, 2005 | پاکستان ’فوجی کارروائیاں‘ اورمیڈیا کا کردار24 December, 2005 | Debate باجوڑ:صحافیوں کے داخلے پر پابندی17 January, 2006 | پاکستان فِلمی صحافت کے گمنام سپاہی11 March, 2006 | فن فنکار پاکستانی کارٹون: آزادی کی آزمائش31 March, 2006 | قلم اور کالم صحافی کا قتل، سیکرٹری فاٹا معطل28 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||