BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 September, 2006, 06:42 GMT 11:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان، صحافیوں کیلیئے خطرناک‘

آئی فیکس کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اب تک چار صحافی قتل ہوچکے ہیں
کینیڈا سے دنیا بھر کے صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فریڈم آف ایکسپریشن ایکسچینج یا آئی فیکس ifex.org اور امریکہ سے دنیا بھر میں صحافیوں اور پریس آزادیوں کے تحفظ کے لیئے کام کرنے والی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ یا سی پی جے نے کہا ہے کہ پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیئے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

ان بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے پاکستان میں صحافیوں کو درپیش موجودہ صورتحال پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان تنظیموں نے حال ہی میں پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بی بی سی اردو سروس کے صحافی دلاور خان وزیر کے پندرہ سالہ بھائی تیمور خان کی پراسرار ہلاکت کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور اس قتل کی مکمل چھان بین کرانے کے لیئے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے۔ سی پی جے اس قتل کی تحقیقات کے لیئے مسلسل سرگرم ہے اور ادارے نے اس سلسلے میں عالمی سطح پر اجتجاج جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔

ان تنظیموں کے مطابق پاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں صحافیوں کو سخت ترین حالات کا سامنا ہے۔ صحافتی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اکثر ان افراد کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اس دوران کئی صحافی اپنی جانیں بھی گنوا چکے ہیں۔

ٹورانٹواور نیویارک سے ان تنظیموں کے جاری کیئے جانے والے بیانات میں سی پی جے اور آئی فیکس نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے خلاف کارروائیوں میں دن بدن شدت آرہی ہے۔ ’اس علاقے میں تشدد اور خلاف قانون وارداتوں کی وجہ سے صحافی بہت زیادہ غیر محفوظ ہیں‘۔

آئی فیکس کے مطابق سن 2002 سے اب تک پاکستان میں آٹھ صحافی قتل ہوچکے ہیں جن میں سے چار کو قبائلی علاقوں میں قتل کیا گیا۔ جون میں اغواء کیئے گئے صحافی حیات اللہ کے مردہ پائے جانے کی خبروں پر آئی فیکس کو سخت صدمہ پہنچا۔ آئی فیکس اب مسلسل پاکستان کی صحافتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں موجود صحافیوں کو درپیش مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں آئی فیکس کا خصوصی شعبہ پاکستان میں صحافت اور صحافیوں کی صورتحال پر اپنی رپورٹیں مرتب کرتا ہے تاکہ صحافیوں کو درپیش مسائل اور پابندیوں سے نمٹنے کے لیئے عالمی سطح پر پاکستانی صحافیوں کی آواز بلند کی جاسکے۔

’سی پی جے صحافیوں کے قتل کے خلاف عالمی سطح پر اجتجاج جاری رکھے گی‘
’سی پی جے صحافیوں کے قتل کے خلاف عالمی سطح پر اجتجاج جاری رکھے گی‘

اس سال کے آخر میں کینیڈا میں ہونے والی صحافیوں کی عالمی کانفرنس کے دوران پاکستانی نژاد صحافی اور پروڈیوسر محسن عباس چودھری کی تیار کردہ دستاویزی فلم بھی نمائش کے لیئے پیش کی جائے گی۔ کینیڈین صحافتی تنظیم کے تعاون سے تیار کردہ اس فلم میں پاکستان اورخصوصًا قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے قتل عام اور ان کو درپیش مشکلات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

سی پی جے کی پریس ریلیز کے مطابق سرکاری سطح پر صرف امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے کیس کو توجہ دی گئی مگر باقی سات صحافیوں کے قتل کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا ہے۔ ’امریکی صحافی کے قتل کے ذمہ دار افراد کو سزائیں صرف اور صرف امریکی حکام کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے مل سکیں مگر دیگر صحافیوں کے ورثاء کو حکومتی افراد نے وعدوں پر ہی ٹال دیا‘۔

’مقامی صحافیوں نے سی پی جے کو بتایا تھا کہ ماضی میں بھی دلاور خان کے گھر اور نجی سکول کے باہر نامعلوم افراد بم دھماکے کر چکے ہیں جبکہ ان کو تحریری دھمکیاں بھی ملی تھیں۔ اس لیئے صحافی کے بھائی کا قتل بھی اس کے کام سے متعلق ہوسکتا ہے۔ سی پی جے اس قتل کی مکمل تحقیقات کے لیئے مسلسل سرگرم ہے اور اس واقعہ کی بھرپور چھان بین کے لیئے عالمی سطح پر اجتجاج جاری رکھے گی‘۔

اسی بارے میں
کراچی میں آزادی صحافت ریلی
09 August, 2005 | پاکستان
آزادی کی ضرورت کیا ہے؟
16 September, 2005 | قلم اور کالم
فِلمی صحافت کے گمنام سپاہی
11 March, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد