پنجاب میں اے آر وائی بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ شب سے کیبل آپریٹروں نے ’پولیس کے حکم‘ پر لاہور سمیت پنجاب بھر کے شہروں میں اے آر وائی چینل بند کردیا۔ ایک روز قبل اے آر وائی کے ایک رپورٹر مبینہ پولیس تشدد سے زخمی ہوگئے تھے جس کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ آل پاکستان کیبل آپریٹر ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر کیپٹن (ر) جبار نے بی بی سی کوبتایا کہ کل رات ساڑھے آٹھ بجے تھانوں کے ایس ایچ او صاحبان نے کیبل آپریٹروں کو حکم دیا تھا کہ وہ ساڑھے نو بجے تک اے آر وائی کے سارے چینل بند کردیں۔ کیپٹن (ر) جبار کا کہنا ہے کہ انہوں نے کیبل آپریٹروں کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا کے پنجاب کے سربراہ کمال الدین ٹیپو سے اس معاملے پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ پیمرا کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت نہیں ہے اور یہ کیبل آپریٹروں کی صوابدید ہے کہ وہ پولیس کا حکم مانیں یا نہ مانیں۔ کیبل آپریٹر ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ چونکہ پولیس کا حکم نہ ماننے میں ہزار قباحتیں ہیں اس لیئے لاہور، راولپنڈی اور ملتان سمیت کئی شہروں میں رات گیارہ بجے سے اے آر وائی چینل کی نشریات بند کردی گئیں۔ دوسری طرف لاہور کے پولیس سربراہ ایڈیشنل آئی جی پولیس خواجہ خالد فاروق نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پولیس نے کیبل آپریٹروں سے اے آر وائی چینل بند کرنے کے لیئے کہا ہے۔ اے آر وائی کے بیورو چیف نصراللہ ملک نے بی بی سی کوبتایا کہ سنیچر کی شب پولیس کے ایک ڈی ایس پی مینار پاکستان کے پاس اے ٹی وی کے ایک فوٹو گرافر سے جھگڑ رہے تھے جس پر اے آر وائی کے رپورٹر عبدالودود نے مداخلت کی تو پولیس نے ان کی پٹائی کردی اور ان کا جبڑا توڑ دیا۔ وہ اس وقت میو ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اے آر وائی کے بیورو چیف کے مطابق وزیراعلی پرویز الہیٰ نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور متعلقہ پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا لیکن انہیں گرفتار نہیں کیاگیا۔ نصراللہ ملک کا کہنا ہے کہ رپورٹر پر پولیس تشدد کے بارے میں عوامی رائے کا ایک پروگرام اتوار کو دن کے وقت نشر کیاگیا جس میں کراچی سے کسی شخص نے اپنی رائے دیتے ہوئے کوئی ایسی بات کہی جو پنجاب حکومت کو ناگوار گزری ہے۔ اے آر وائی کے بیورو چیف نے کہا کہ کل شام لاہور سے پورے پنجاب کے تھانوں میں وائرلیس پر پیغامات دیے گئے کہ کیبل پر آے آر وائی کی نشریات بند کرادی جائیں اور رات ساڑھے دس بجے تک تمام صوبے میں اے آر وائی کے تمام چینل بند کردیے گئے۔
پیمرا پنجاب کے جنرل منیجر کمال الدین ٹیپو نے بی بی سی کو بتایا کہ اے آر وائی پر ان کے ادارہ کی طرف سے کوئی پابندی نہیں لگائی گئی اور نہ اس چینل نے پیمرا کے کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا کسی چینل پر کچھ شرائط کے تحت پابندی لگاسکتی ہے جیسے اگر کوئی چینل اسلام یا پاکستان کے خلاف کوئی بات نشر کرے۔ پیمرا کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے اے آر وائی کو بند کرنے کا حکم غیر قانونی ہے۔ پیر کی سہ پہر لاہور میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام درجنوں صحافیوں نے اے آر وائی کے رپورٹر پر مبینہ پولیس تشدد اور چینل کی بندش کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔ صحافیوں نے سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے لاہور میں صحافیوں کے خلاف پولیس کے مبینہ تشدد کی مذمت کی ہے جس میں اے آر وائی کے رپورٹر عبدالودود، اے ٹی وی کے ملک زاہد اور محمد نذیر شامل ہیں، جو زخمی ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں پنجاب میں ٹی وی چینلوں کی جنگ02 June, 2004 | پاکستان کیبل پر جیو چینل کی نشریات بند23 January, 2006 | پاکستان اخبارات کو ٹی وی چینل کی اجـازت20 April, 2004 | پاکستان بلوچی ٹی وی چینل کی تیاریاں 04 April, 2006 | پاکستان ’کیبل آپریٹر ممنوعہ چینل دکھا رہےہیں‘22 April, 2006 | پاکستان کیبل آپریٹر کااحتجاج: چینل بند25 July, 2006 | پاکستان اخبار مالکان کو ٹی وی چینلز کی اجازت22 August, 2006 | پاکستان ’چینلز پر پابندی ختم ہو سکتی ہے‘ 04 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||