’چینلز پر پابندی ختم ہو سکتی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی ٹی وی چینلز کے پاکستان میں دکھائے جانے پر سے پابندی اٹھانے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ بھارت بھی ایسا کرے۔ وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے ٹی وی چینلز پر سے پابندی ہٹانے کے حق میں لیکن یہ عمل دو طرفہ ہونا چاہیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر کے سوال کے تحریری طور پر دیئے گئے جواب میں شیخ رشید احمد نے بتایا کہ بھارت کے اکیس ٹیلی ویژن چینلز کے پروگرام پاکستان میں دکھائے جانے پر حکومت نے پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ بھارت نے پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے پروگرام کیبل کے ذریعے دکھائے جانے پر پابندی لگارکھی ہے اور پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر بھارت کے چینلز پر پابندی عائد کی ہے۔ بھارت کے اکیس چینلز جن پر پابندی ہے ان میں دور درشن کے آٹھ چینلز، زی کے پانچ ، اسٹار کے تین، بی فور یو کے دو جبکہ دیگر میں صحارا، سونی اور وی چینل شامل ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جن میں پارلیمنٹ کے ارکان، کاروباری افراد ، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں ، کھلاڑیوں ، لکھاریوں ، اور فنکاروں کے وفود کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے ملک میں اٹھائیس سرکاری ایف ایم ریڈیو اسٹیشن مرحلہ وار قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ابھی تک ایک اسٹیشن قائم کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||