BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 June, 2004, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چینلز پر پابندی ختم ہو سکتی ہے‘

News image
وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی ٹی وی چینلز کے پاکستان میں دکھائے جانے پر سے پابندی اٹھانے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ بھارت بھی ایسا کرے۔

وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے ٹی وی چینلز پر سے پابندی ہٹانے کے حق میں لیکن یہ عمل دو طرفہ ہونا چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر کے سوال کے تحریری طور پر دیئے گئے جواب میں شیخ رشید احمد نے بتایا کہ بھارت کے اکیس ٹیلی ویژن چینلز کے پروگرام پاکستان میں دکھائے جانے پر حکومت نے پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

بھارت نے پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے پروگرام کیبل کے ذریعے دکھائے جانے پر پابندی لگارکھی ہے اور پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر بھارت کے چینلز پر پابندی عائد کی ہے۔

بھارت کے اکیس چینلز جن پر پابندی ہے ان میں دور درشن کے آٹھ چینلز، زی کے پانچ ، اسٹار کے تین، بی فور یو کے دو جبکہ دیگر میں صحارا، سونی اور وی چینل شامل ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جن میں پارلیمنٹ کے ارکان، کاروباری افراد ، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں ، کھلاڑیوں ، لکھاریوں ، اور فنکاروں کے وفود کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے ملک میں اٹھائیس سرکاری ایف ایم ریڈیو اسٹیشن مرحلہ وار قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ابھی تک ایک اسٹیشن قائم کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد