اخبار مالکان کو ٹی وی چینلز کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو منظم کرنے والے قانون میں ترامیم کا بل ایوان بالا یعنی سینیٹ سے حزب مخالف کی غیر موجودگی میں منظور کرا لیا ہے جس کے تحت اخباری مالکان کو بھی ٹی وی اور ریڈیو چینلز کے لائیسنس مل سکیں گے اور کراس میڈیا پر پابندی ختم ہوگی۔ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قانون میں ترمیم کے بعد حکومت کو کسی بھی ٹی وی یا ریڈیو چینل اور اخبارات کے خلاف کارروائی کرنے، جاری کردہ لائیسنس منسوخ یا معطل کرنے، نشری آلات ضبط کرنے، تلاشی لینے، بھاری جرمانہ عائد کرنے اور ان اداروں کے دفاتر سر بمہر کرنے کے وسیع تر اختیارات دیئے گئے ہیں۔ شکایات کا جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم ہونے والی تین رکنی کمیٹی کے بارے میں شقیں بھی ختم کر دی گئیں ہیں۔ اس کمیٹی میں پہلے براڈ کاسٹرز کا نمائندہ ہوتا تھا اور کسی کا بھی لائسینس منسوخ یا معطل کرنے کے فیصلے سے قبل ’پیمرا‘ اس کی رائے لینے کی پابند تھی جو اب ختم کردی گئی ہے۔ حکومت نے ’پیمرا‘ کو ایسے اختیارات دینے کے متعلق کہا ہے کہ غیر قانونی نشریات اور آلات کے استعمال کو روکنے اور موثر طور پر قانون پر عملد درآمد کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے بیان کردہ مقاصد کے مطابق اس ترمیمی بل کے بعد پاکستان میں اخباری مالکان کو بھی ٹی وی اور ریڈیو چینلز کے لائیسنس مل سکیں گے اور کراس میڈیا پر پابندی ختم ہوگی۔ نئے ترمیمی بل کو جب حکومت نے گزشتہ برس مئی میں قومی اسمبلی سے منظور کرایا تھا تو حزب مخالف نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ سینٹ میں قائد حزب اختلاف میاں رضا ربانی نے حکومت کے عجلت اور حزب مخالف کی غیر موجودگی میں ’پیمرا ترمیمی بل‘ کی منظوری پر سخت اعتراض کیا ہے۔ منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اس طرح کی قانون سازی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور عدالت اس طرح منظور کردہ قانون کو ختم کرسکتی ہے۔ ادھر رضا ربانی نے اپنے اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے شق چھ میں ترمیم کرکے حکومت نے ’پیمرا بورڈ، کے اراکین میں حکومتی اراکین کی تعداد بڑھائی ہے اور میڈیا سے متعلق ’سٹیک ہولڈرز، کی نمائندگی ختم کردی گئی ہے جوکہ غلط ہے۔ حکومت نے شق بیس میں ترمیم کرتے ہوئے ’مانیٹرنگ کمیٹی‘ بنائی ہے جسے ضابطہ اخلاق پر عمل کرانے کے لیے ازخود سینسر شپ کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس بارے میں رضا ربانی نے لکھا ہے کہ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے اور براڈ کاسٹرز کے آزادانہ ادارتی فیصلوں میں مداخلت ہے جوکہ نہیں ہونی چاہیے۔ اختلافی نوٹ میں انہوں نے شق اکیس میں ترمیم کی بھی مخالفت کی ہے اور لکھا ہے کہ اس سے صوبائی خود مختاری کی نفی ہوتی ہے۔ان کے مطابق اصل قانون میں صوبائی حکومت کو لائیسنس جاری، منسوخ اور معطل کرنے کا اختیار تھا جوکہ اب صرف جاری کرنے تک محدود کیا گیا ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ حکومت نے صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور حزب مخالف کے دباؤ کے بعد حکومت نے صحافیوں کو گرفتار اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا نکتہ ترمیمی بل سے نکال دیا ہے۔ | اسی بارے میں بی بی سی اردو کی نشریات بند15 November, 2005 | پاکستان 20 غیرملکی چینلوں کی نشریات بند23 December, 2005 | پاکستان پاکستان: اپ لنکنگ کی اجازت28 February, 2006 | پاکستان بی بی سی کی خبروں پر پابندی 01 April, 2005 | پاکستان کوئٹہ: تین افغان ٹی وی چینلز بند 16 March, 2006 | پاکستان ’کیبل آپریٹر ممنوعہ چینل دکھا رہےہیں‘22 April, 2006 | پاکستان 87 غیر قانونی ریڈیو سٹیشن بند24 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||