پاکستان: اپ لنکنگ کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے پہلی بار نجی شعبے کو ’سیٹلائٹ اپ لنکنگ‘ کی سہولت دیتے ہوئے منگل کے روز دو کمپنیوں کو لائیسنس جاری کردیے ہیں۔ کھلی بولی کے ذریعے چار کروڑ چھیالیس لاکھ ساٹھ ہزار روپوں کی بولی دینے والی ’ساؤنڈ ویو براڈ کاسٹنگ‘ اور ’بیسٹ میڈیا پروڈکٹس‘ نامی کمپنیوں کو یہ لائیسنس جاری کیئے گئے ہیں۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ’پیمرا‘ کے چیئرمین افتخار رشید کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں کراچی، لاہور، اسلام آْباد اور راولپنڈی میں ’ٹیلی پورٹ ارتھ سٹیشنز‘ قائم کریں گی۔ ان کے مطابق ان سٹیشنز سے نجی ٹی وی چینلز کی نشریات سیٹلائٹ کے ساتھ ’اپ لنک‘ کی جاسکی گی۔ ’ٹیلی پورٹ ارتھ سٹیشنز‘ قائم کرنے کے لیئے سن دو ہزار چار میں پاکستان حکومت نے خواہشمند کمپنیوں سے بولیاں طلب کیں تھیں۔ اس وقت تیرہ کمپنیوں نے خواہش ظاہر کی تھی لیکن بولی میں صرف چار کمپنیوں نے حصہ لیا۔ قواعد کے مطابق کامیاب بولی دہندہ کمنیوں کو پندرہ فیصد رقم اپنی بولی کے ہمراہ جبکہ باقی رقم لائیسنس جاری ہونے کے تیس روز کے اندر جمع کرانی ہوگی۔ حکومت نے ’ٹیلی پورٹ ارتھ سٹیشن‘ کے قیام کے لیے کم از کم رقم ڈھائی کروڑ روپے مقرر کی تھی۔ جو دو کمپنیاں بولی سے باہر ہوگئیں انہوں نے تین سے ساڑھے تین کروڑ روپوں تک کی بولی دی اور اس آگے نہیں بڑھ پائیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت سیٹ لائٹ کے ساتھ ’اپ لنکنگ‘ کی سہولت صرف اور صرف سرکاری شعبے میں پاکستان ٹیلی ویژن کو ہی حاصل ہے۔ | اسی بارے میں ’پابندی کی وجہ ڈی ٹی ایچ ٹی وی ہے‘ 29 December, 2005 | فن فنکار 20 غیرملکی چینلوں کی نشریات بند23 December, 2005 | پاکستان بی بی سی اردو کی نشریات بند15 November, 2005 | پاکستان میڈیا بِل: ثالثی کمیٹی کے پاس22 September, 2005 | پاکستان بی بی سی کی خبروں پر پابندی 01 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||