20 غیرملکی چینلوں کی نشریات بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی( پیمرا) نے پاکستان بھر کے کیبل آپریٹروں پر جملہ حقوق کی خلاف وزی کرنے کی وجہ سے بیس کے قریب غیر ملکی ٹی وی چینلوں کی نشریات دکھانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ کراچی میں اس پابندی پر جمعرات کی شام سے عملدرآمد شروع ہو گیا ہے اور پیمرا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حکم پر پورے ملک میں عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور اگر کسی کیبل آپریٹر نے اس حکم کی خلاف وزری کی تو پیمرا قانون کے تحت اسے جرمانہ اور قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ پیمرا کے ترجمان محمد سلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک بڑے عرصے سے غیر ملکی چینل پیمرا سے شکایت کر رہے تھے کہ کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور کیبل آپریٹر بغیر کوئی معاوضہ دیے ان کی نشریات دکھا رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کیبل کی صنعت کو پندرہ سال ہوگئے ہیں مگر یہ ابھی تک’ کیموفلاجڈ ‘ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب جب تک کیبل آپریٹر کے پاس ’لینڈنگ رائٹس‘ نہیں ہوں گے وہ غیر ملکی چینلوں کی نشریات نہیں دکھا سکیں گے۔ پیمرا کے مطابق جن چینلوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں ایم ایم مووی چینل، اسٹار نیٹ ورک، بی فار یو، سپر سپورٹس اور زی نیٹ ورک کے تمام چینل اور چینل ون، ریئل ٹی وی اور فیشن ٹی وی شامل ہیں۔ پیمرا کے ترجمان محمد سلیم کے مطابق اس سلسلے میں آگاہی کے لیے میڈیا مہم بھی شروع کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن نے اس پابندی پر ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔ تنظیم کے وائس چیئرمین خالد آرائیں کا کہنا ہے کہ کیبل آپریٹرز کو تمام ریونیو غیر ملکی چینلوں سے ملتا ہے۔ اگر ان چینلوں کی نشریات بحال نہیں ہوئیں تو ہمارا کاروبار ٹھپ ہوجائےگا۔ | اسی بارے میں پاکستانی ٹی وی پر بھارتی اداکار07 November, 2005 | فن فنکار بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی15 November, 2005 | پاکستان پاکستان: جعلی سٹار وارز دستیاب24 May, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||