BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 December, 2005, 07:43 GMT 12:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پابندی کی وجہ ڈی ٹی ایچ ٹی وی ہے‘

’سٹار پلس‘ کے ڈرامے
پاکستانی عوام خصوصاً خواتین کی بڑی تعداد ’سٹار پلس‘ کے ڈرامے دیکھتی ہے
’سٹار پلس کے ڈرامے‘ اور ’زی‘ اور ’سونی‘ چینلوں پر دکھائی جانے والی بالی وڈ فلمیں بند ہونے سے پاکستان بھر میں تقریبا دس ہزار کیبل آپریٹروں کا کاروبار مندے کا شکار ہے اور ان کی ایسوسی ایشن کے اراکین کا کہنا ہے کہ ان پر پابندی ڈائریکٹ ٹو ہوم ٹی وی کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے لگائی گئی ہے۔

پاکستان کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کےصدر کیپٹن جبار کا کہنا ہے کہ سٹار، سونی اور زی ٹی وی چینلز کے پروگرام عوام میں بہت مقبول ہیں اور جب سے ان پر پابندی لگی ہے لوگوں نے آپریٹروں کو ماہانہ فیس دینا بند کردی ہے۔

بعض کیبل آپریٹروں کا کہنا ہے کہ چینلز پر اچانک پابندی کا مقصد دراصل ان مخصوص پارٹیوں کو فائدہ پہنچانا ہے جو ملک میں ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) باکس کی ٹیکنالوجی متعارف کروانے والی ہیں جو کیبل کی مقابلتاً سستی سروس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

ان کیبل آپریٹروں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ڈی ٹو ایچ ٹیکنالوجی کیبل سروس کا مقابلہ نہیں کر سکی کیونکہ کیبل مقابلتاً بہت سستی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ اگر کیبل آپریٹروں پر ناجائز پابندیاں نہ لگائی گئیں تو ڈی ٹو ایچ سے ان کے کاروبار میں پانچ سے دس فیصد کمی آئے گی۔

پمرا نے کیبل آپریٹروں کو پینتیس ٹی وی چینلز کی فہرست جاری کی ہے جنہیں دکھانے پر پابندی ہے۔ پمرا کا موقف ہے کہ ان غیر ملکی ٹی وی چینلز نے پاکستان میں قانون کے مطابق لینڈنگ رائٹس حاصل نہیں کیے ہیں۔

بند کیے گئے ٹی وی چینلز میں سپر سپورٹس، سونی، زی، بی فار یو، سٹار گولڈ، سٹار پلس اور ملٹی چوائس کے ذریعے آنے والے تمام چینلز شامل ہیں جن میں بی بی سی اور سی این این بھی شامل ہیں۔ تاہم کیبل آپریٹروں نے ابھی تک بی بی سی اور سی این این چینلز دکھانا بند نہیں کیے اور رات کے وقت بیشتر علاقوں میں اس پابندی پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔

کیپٹن جبار کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت نے پینتیس چینلز کو لینڈنگ رائٹس نہ ہونے کی بنیاد پر کیبل پر دکھانے کی پابندی لگائی ہے حالانکہ جو چینلز چل رہے ہیں ان میں سے بھی بیشتر کے پاس لینڈنگ رائٹس نہیں ہیں۔

جمعرات کو پمرا کے چیئرمین نے کیبل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سات رکنی وفد سے حتمی ملاقات میں پینتیس چینلز پر سے پابندی ختم کرنے سے انکار کردیا اور ایسوسی ایشن کے مطابق پمرا کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ تمام چینلز کو قانون کے فریم ورک میں آنے کے بعد ہی نشر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

کیپٹن جبار نے بتایا کہ پمرا کے چیئرمین نے کہا کہ کیبل آپریٹر کچھ وقت انتظار کریں۔ پیمرا کے چیئرمین نے کیبل وفد سے کہا کہ وہ حکومت سے تعاون کریں اور جب یہ چینلز قانون کے دائرہ میں آجائیں گے تو ان چینلز کو دوبارہ شروع کیا جا سکے گا۔

اس سے قبل منگل کو ملک بھر کے دو ہزار سے زیادہ کیبل آپریٹرز کی ایسوسی ایشن نے ان چینلز پر سے پابندی کے خاتمے کے لیے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) کے چیئرمین افتخار رشید سے اسلام آباد میں مذاکرات کیے تھے۔

اس ملاقات میں پمرا کے چیئرمین افتخار رشید نے ایسوسی ایشن کو بتایا تھا کہ غیر ملکی چینلز سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پروگراموں میں پچاس فیصد پاکستانی مواد شامل کریں اور لینڈنگ رائٹس حاصل کریں تو انہیں دکھانے کی اجازت دی جائے گی۔

دوسری طرف، سٹار پلس اور سٹار گولڈ پر لگی پابندی کے خاتمہ کے لیے ہانگ کانگ کے چینل کا ایک گروپ کراچی پہنچ گیا ہے اور اس نے پمرا سے بات چیت کا ایک دور مکمل کرلیا ہے۔

سٹار کے نو چینلز کے پاس پاکستان میں دکھائے جانے کے لینڈنگ رائٹس ہیں جبکہ اس کے دو مقبول چینلز سٹار پلس اور سٹار گولڈ کے پاس لینڈنگ رائٹس نہیں ہیں۔

کیبل ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ پانچ سال پہلے جب آپریٹرز نے کیبل چلانے کا لائسنس لیا تھا تو پمرا نے انہیں سو سے زیادہ چینلز کی ایک فہرست مہیا کی تھی جس میں وہ چینلز بھی شامل تھے جن پر اب اچانک پابندی لگادی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق پانچ سال پہلے پاکستان میں صرف سرکاری ٹی وی کے چینلز تھے اور کوئی نجی چینل شروع نہیں ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ انہی غیر ملکی چینلز کی بنیاد پر ملک بھر کے دو ہزار سے زیادہ بڑے کیبل آپریٹروں نے اس کاروبار میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں بڑے کیبل آپریٹروں کے ساتھ تقریبا آٹھ ہزار چھوٹے لوپ کیبل آپریٹر بھی وابستہ ہیں جو چار لاکھ سے زیادہ صارفین کو کیبل مہیا کرتے ہیں اور ان سے تقریبا تین لاکھ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

کیپٹن جبار کا کہنا ہے کہ پمرا کے موقف میں تضاد ہے کیونکہ ایک طرف تو اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ بند کیے گئے چینلز پاکستانی کلچر کے خلاف ہیں اور دوسری طرف وہ کہہ رہا ہے کہ یہ چینلز لینڈنگ رائٹس لے لیں تو انہیں کھول دیا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ اس وقت دکھائے جانے والے کئی چینلز کے پاس لینڈنگ رائٹس نہیں اور وہ بھارتی پروگرام بھی دکھارہے ہیں لیکن اس پر کوئی پابندی نہیں۔

کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر کیپٹن جبار کا کہنا ہے کہ اگر پمرا نے کیبل آپریٹروں کو کوئی رعایت نہیں دی تو کیبل آپریٹرز بقرعید کے موقع پر ملک بھر میں غیرمعینہ مدت کے لیے ہڑتال کریں گے۔

اسی بارے میں
بی بی سی اردو کی نشریات بند
15 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد