’کیبل آپریٹر ممنوعہ چینل دکھا رہےہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چئیرمین کا کہنا ہے کہ ملک میں دو کروڑ افراد کیبل کے ذریعے ٹیلی وژن چینل دیکھتے ہیں لیکن یہ ادارہ کیبل آپریٹروں پر قانون نافذ کرنے میں مشکلات سے دوچار ہے۔ ہفتہ کے دن لاہور میں پیمرا کے چئیرمین افتخار رشید نے ڈائریکٹر جنرل (عمل درآمد) رانا الطاف کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں یہ بات بتائی۔ پیمرا کے چئیرمین نے کہا کہ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بہت سے کیبل آپریٹرز غیر قانونی طور پر ممنوعہ پینتیس ٹی وی چینلز دکھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ادارے کے پاس بہت کم اسٹاف ہے اور صرف چھ شہروں میں اس کے دفاتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کیبل آپریٹرز پینسٹھ ایسے غیر ملکی چینلز دکھا رہے تھے جنہوں نے پمرا سے اجازت یا لینڈنگ رائٹس نہیں لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان چینلوں کو خط لکھے گئے تو ان میں سے پینتیس چینلوں نے اجازت حاصل کر لی۔ افتخار رشید نے کہا کہ گزشتہ سال اکیس دسمبر کو پیمرا نے اجازت حاصل نہ کرنے والے پینتیس ٹی وی چینلوں کو کیبل پر دکھانے کی ممانعت کردی جن میں سے سات بھارتی چینلز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ گروپ کا جیو ٹی وی چینل بھی پانچ چھ سال تک اجازت کے بغیر ملک میں اپنی نشریات دکھاتا رہا تاہم اب اس نے پمرا سے لینڈنگ رائٹس حاصل کرلیے ہیں۔ پیمرا کے چیئرمین نے کہا کہ جیو چینل کے ذریعے دکھائی جانی والی وائس آف امریکہ کی نشریات پہلے سے ریکارڈ شدہ ہوتی ہیں اور جیو چینل اس میں دکھائے جانے والے مواد کا ذمہ دار ہے۔ پیمرا کے چئیرمین کا کہنا تھا کہ جن چینلوں کے پاس لینڈنگ رائٹس ہیں انہیں اپنی نشریات کے کچھ حصہ میں کسی اور چینل کے ریکارڈ شدہ پروگرام دکھانے کی اجازت ہے لیکن وہ وائس آف امریکہ سمیت کسی غیرملکی چینل کی نشریات براہ راست (لائیو) نہیں دکھاسکتے۔ پیمرا چئیرمین نے کہا کہ اس وقت چوبیس نئے ٹی وی چینلوں کوشروع کرنے کی درخواست ان کے ادارہ کے زیر غو رہے جن میں سے اٹھارہ ایسے چینل ہیں جو کراس میڈیا کے ضمن میں آتے ہیں یعنی انھیں شروع کرنے والی پارٹیاں اخباروں کی مالک بھی ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی نیوز چینلوں کو کیبل پر دکھانے سے متعلق کوئی متعین پالیسی نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے بھارت سے تعلقات اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا بھارتی نیوز چینلوں کے بارے میں قومی ضروریات اور اپنے ضابطہ اخلاق کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاتا ہے اور حکومت سے اجازت حاصل کی جاتی ہے۔ پیمرا کے چئیرمین نے کہا کہ جس چینل کو پاکستان میں لینڈنگ رائٹس دیے جاتے ہیں وہ چینل پہلے پیمرا کو اپنے پروگراموں کا فارمیٹ پیش کرتا ہے اور پاکستان کا محکمہ داخلہ اور سیکیورٹی ایجنسیاں اس کی کلئیرنس کرتی ہیں اس کے بعد پمرا اس کی درخواست پر غور کرتا ہے۔ پیمرا کے چئیرمین نے کہا کہ اب ان کا ادارہ تیس دنوں میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کا لائسنس جاری کردیتا ہے اور گزشتہ ایک سال میں اس نے ایک سو لائسنسوں پر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے آخر تک ملک کے ایک سو ایک ضلعی صدر مقامات میں کم سے کم ایک ایف ایم ریڈیو چینل کام شروع کردے گا۔ پیمرا کے سربراہ نے کہا کہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت صرف پاکستانی کمپنیوں کو ہے اور کسی غیرملکی کمپنی کو لائسنس نہیں دیا جاسکتا۔ چئرمین کے مطابق پیمرا کے ملازمین کی کل تعداد دو سو ستائیس ہے جبکہ گزشتہ سال اس کی سالانہ آمدن دس کروڑ روپے تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پمرا نے مرکزی دفتر بنانے کے لیے اسلام آباد میں بارہ کروڑ روپے کا پلاٹ خریدا ہے۔ | اسی بارے میں نو نئے ایف ایم ریڈیو سٹیشن19 April, 2006 | پاکستان کوئٹہ: تین افغان ٹی وی چینلز بند 16 March, 2006 | پاکستان کیبل پر جیو چینل کی نشریات بند23 January, 2006 | پاکستان کوئٹہ: کیبل آپریٹروں کی ہڑتال 03 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||