BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 August, 2004, 17:10 GMT 22:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: کیبل آپریٹروں کی ہڑتال

’کیوبنکہ سانس بھی کبھی بہو تھی‘
’کیوبنکہ سانس بھی کبھی بہو تھی‘ جیسے انڈین ڈرامے پاکستان میں بہت دیکطھے جا رہے ہیں
کوئٹہ میں بھارتی چینلز دکھانے کے خلاف ضلعی حکومت کی کارروائی پر کیبل آپریٹروں نے ہڑتال شروع کر دی ہے۔

کیبل آپریٹر ایسوسی ایشن کے صدر سہیل نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات ضلعی ناظم کی سربراہی میں پولیس اور پمرا کے افسران آئے اور ماڈیولیٹرز ڈیکوڈرز کارڈز اور سی ڈیز اٹھا کر ساتھ لے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ضلعی حکومت کو یہ اعتراض ہے کہ بھارتی چینلز اور فلمیں کیوں دکھائی جا رہی ہیں جبکہ ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ سے کہا گیا کہ اب تو بھارت کے ساتھ دوستی کے روابط ہو رہے ہیں اور ملک بھر میں یہ چینیلز دکھائے جا رہے ہیں تو اب یہ پابندی کیسی ہے جس پر ناظم برہم ہو گئے۔

سہیل نے بتایا ہے کہ کوئٹہ میں لگ بھگ انیس لائسنس ہولڈر کیبل آپریٹرز ہیں اور سب نے متفقہ طور پر آج یہ فیصلہ کیا ہے کہ ضلعی حکومت اور پمرا کے اس رویے کے خلاف وہ ہڑتال جاری رکھیں گے۔

 بھارتی چینلز پر پاکستان کے خلاف فلمیں دکھائی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ غیر اخلاقی چینیلز ہوتے ہیں جن سے نوجوان نسل خراب ہو سکتی ہے
ضلعی ناظم رحیم کاکڑ

اس بارے میں ضلعی ناظم رحیم کاکڑ سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے کہا کہ بھارتی چینلز پر پاکستان کے خلاف فلمیں دکھائی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ غیر اخلاقی چینیلز ہوتے ہیں جن سے نوجوان نسل خراب ہو سکتی ہے لہذا وہ اس کی اجازت ہر گز نہیں دے سکتے۔

انھوں نے کہا ہے کہ جو کچھ بھی انھوں نے کیا ہے وہ قانون کے دائرے میں کیا ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ کارروائی پہلے کیوں نہیں کی گئی اور خصوصاً اس وقت جب ملک بھر میں بھارتی چینلز پر پابندی عائد تھی اور یہاں کوئٹہ میں دکھائے جا رہے تھے تو ناظم نے کہا کہ ’اس کو چھوڑیں اب اس طرف ہماری توجہ ہوئی ہے تو ہم نے کارروائی کر دی ہے۔‘

کیبل آپریٹرز کا کہنا ہے کہ جب پاکستان میں نجی چینلز بھارتی اداکاروں اور گلوکاروں کے پروگرام نشر کرتے ہیں اور گانے اور فلمیں دکھاتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ کیبل آپریٹر ایک ہزار گاہکوں پر پچیس ہزار روپے سالانہ فیس دیتے ہیں اور فی گاہک پانچ روپے پمرا کو دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد