نو نئے ایف ایم ریڈیو سٹیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے بدھ کو پنجاب کے نو مختلف شہروں میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن کھولنے کے لیئے پانچ مختلف کمپنیوں کی بولی منظور کرلی ہے۔ پیمرا کے مطابق اس بولی سے پہلے پنجاب میں تینتالیس نئے ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم کرنے کی اجازت دی جاچکی ہے جس میں سے چھبیس کام کررہے ہیں۔ یوں اب پنجاب میں کام کرنے کی اجازت حاصل کرنے والے ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کی تعداد باون ہوجائے گی۔ پیر کے روز لاہور پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے پیمرا کے چیئرمین افتخار رشید نے کہا تھا کہ پمرا نے ملک کے ہر ضلع کے لیئے ریڈیو لائسنس جاری کردیا ہے اور انہیں امید ہے کہ ایک سال کے اندر ہر ضلع میں ایک ریڈیو سٹیشن کام شروع کردے گا۔ افتخا رشید کا کہنا تھا کہ ایف ایم ریڈیو سٹیشن کامقصد مقامی خبروں کی کوریج ہے اس لیے انہیں بین الاقوامی خبریں نشر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ریڈیو پاکستان کو بیرون ملک فریکیونسی پر خبریں نشر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی کسی غیر ملکی ادارہ کو پاکستان میں ایف ایم ریڈیو کے ذریعے خبریں نشر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بدھ کو ایک کمپنی کو میانوالی، خوشاب، بھکر اور نارووال میں ایف ایم سٹیشن کھولنے کے لیئے کامیاب بولی دہندہ قرار دیا گیا۔ دوسری کمپنی نے پاکپتن اور راجن پور، تیسری کمپنی نے اوکاڑہ، چوتھی نے حافظ آباد اور پانچویں نے بہاولنگر کے لیئے کامیاب بولی دی۔ سب سے زیادہ بولی اوکاڑہ میں ریڈیو اسٹیشن کھولنے کے لیئے دی گئی جو چالیس لاکھ روپے تھی۔ نارووال میں کامیاب بولی کی قیمت سب سے کم ایک لاکھ تیس ہزار رہی۔ پیمرا لاہور کے اسسٹنٹ جنرل منیجر خرم صدیقی کے مطابق کامیاب بولی دینے والوں کو پیمرا کی چند شرائط پوری کرنا ہوں گی جس کے بعد انہیں لائسنس جاری کیا جائے گا۔ اس عمل میں چند ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔
اس بولی سے پہلے ملک بھر میں پیمرا نے اب تک چھیاسی ریڈیو سٹیشنوں کے لیے لائسنس جاری کیے ہیں جبکہ ان میں سے اننچاس ایف ایم سٹیشن کام کررہے ہیں۔ اسسٹنٹ جنرل منیجر کے مطابق پمرا نے چھیالیس مزید کمپنیوں کی بولی منظور کی ہوئی ہے تاہم انہیں ابھی حتمی لائنسنس جاری نہیں کیا گیا۔ افتخار رشید کا کہناتھا کہ کیبل پر بھارتی یا کسی غیر ملکی چینل کو دکھانے پر پابندی نہیں لگائی گئی بلکہ صرف ان غیرملکی چینلوں کو دکھانے پر پابندی لگائی گئی ہے جن کے پاس پاکستان میں براڈکاسٹنگ کے حقوق نہیں ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ بھارتی ٹی وی چینل سٹار پلس اپنے بیس سے پچیس فیصد اشتہارات پاکستان سے لے رہا تھا لیکن پاکستان میں غیر قانونی طور پر چل رہا تھا اس لیئے اسے نشر کرنے پر پابندی لگائی گئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب سٹار پلس نے لینڈنگ حقوق کے لیے پیمرا کو درخواست دی ہے جس پر قانون کے مطابق فیصلہ کیاجائےگا۔ افتخار رشید کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیمرا نے دو کمپنیوں کو ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) ٹکنالوجی کے لائسنس نیلام کیئے ہیں جس سے کیبل آپریٹروں کا کردار کم ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا ڈی ٹی ایچ میں لوگوں کو ایک ریسیور خریدنا پڑے گا جس کے ذریعے ٹی وی پر مختلف چینل آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں یہ ٹیکنالوجی پہلے سے کام کررہی ہے۔ پیمرا کے چیئرمین کے مطابق اس وقت ملک میں کوئی میڈیا پالیسی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پمرا نے میڈیا پالیسی کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دے دی ہے اور جلد اس کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی ملکی اور غیرملکی ٹی وی چینلوں کے پاکستان میں کام کرنے کے رہنما اصول بتائے گی۔ افتخا رشید کا کہنا تھا کہ میڈیا پالیسی آنے کے بعد پیمرا کو غیر قانونی ایف ایم سٹیشن چلانے اور غیر ملکی چینلوں کے بغیر اجازت پاکستان میں نشر کیے جانے کے خلاف فوری کارروائی کرنے میں آسانی ہوجائے گی۔ | اسی بارے میں ’پیمرا آرڈیننس بڑا دھچکا ہے‘ 19 May, 2005 | پاکستان چھ نئے ایف ایم ریڈیو سٹیشن 22 October, 2005 | پاکستان سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا کی مذمت15 November, 2005 | پاکستان زلزلہ امداد بذریعہ ایف ایم ریڈیو09 December, 2005 | پاکستان فوجی آپریشن میں ٹرانسمٹر تباہ31 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||