BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 July, 2006, 16:16 GMT 21:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیبل آپریٹر کااحتجاج: چینل بند

خالی سکرین
کیبل آپریٹرز کے احتجاج کی وجہ سے سکرین خالی
پاکستان کے مختلف کیبل آپرٹیرز نے منگل کے روز سے ایک نئے ٹیکس کے خلاف احتجاجاً کئی پاکستانی اور غیرملکی چینل دکھانے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔

لاہور کے ایک بڑے کیبل نیٹ ورک ورلڈ کال نے پچانوے میں سے چوہتر چینل بند کر دیے ہیں۔

بند کیئے جانے والے چینل میں نیوز، سپورٹس اور تفریح کے تقریبا تمام بڑے پاکستانی نجی چینل بھی شامل ہیں۔ البتہ دکھائے جانے والے چینلز میں سے ایک سرکاری چینل پی ٹی وی بھی شامل ہے۔

پاکستان کے بعض کیبل آپریٹرز اس سال کے بجٹ میں ان پر لاگو کیئے جانے والے ایک نئے ٹیکس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے تک وہ روزانہ شام سات سے رات دس بجے تک پاکستان ٹیلی ویژن اور چند ایک ان ہاؤس چینلز کے سوا کوئی نیوز اور تفریحی چینل نہیں دکھائیں گے۔

پنجاب کیبل آپرٹیر ایسوسی ایشن کے صدر ریٹائرڈ کپیٹن عبدالجبار نے کہا کہ اگر حکومت نے ٹیکس واپس نہ لیا تو وہ کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اس سے پہلے پاکستان کے مختلف ٹی وی

 کیبل آپریٹرز کے لیے اپنی فیس وصول کرنا مشکل ہے تو اب ان کے لیئے یہ ٹیکس وصول کرکے حکومت کو ادا کرنا محال ہوگا۔
ریٹائرڈ کپیٹن عبدالجبار
چینلز پر کیبل آپریٹرز کی طرف سے یہ اعلان آج سارا دن چلتا رہا جس میں بتایا گیا کہ یہ ہڑتال حالیہ بجٹ میں اعلان کردہ پچیس روپے ماہانہ فی صارف سنیٹرل ایکسائز ڈیوٹی کے خلاف ہے۔ ان کے بقول یہ دوہرا ٹیکس ہوگا کیونکہ حکومت ٹی وی ٹیکس کے نام پر پہلے سے بجلی کے بلوں کے ساتھ فی صارف پچیس روپے وصول کر رہی ہے۔

ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر کا مطالبہ تھا کہ کم از کم کیبل آپرٹیرز کو ٹیکس وصول کنندہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیبل آپریٹرز کے لیے اپنی فیس وصول کرنا مشکل ہے تو اب ان کے لیئے یہ ٹیکس وصول کرکے حکومت کو ادا کرنا محال ہوگا۔

کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ان کے کوئی پچاس لاکھ صارفین ہیں جو اس ٹیکس سے متاثر ہوں گے کیونکہ ان کے بقول بہرحال یہ ادائیگی عام صارف نے ہی کرنی ہے۔

لیکن لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن میں کیبل آپریٹر ایسوسی ایشن کے دفتر میں آنے والے ایک صارف محمد احسن کو پچیس روپے کا اضافی ٹیکس دینے پر کوئی اعتراض نہیں تھا ان کا کہنا تھا کہ جب وہ ڈیڑھ یا دو سوروپے ماہانہ فیس کیبل آپریٹرکو دیتے ہیں تو پھر اضافی پچیس روپے ادا کرنے میں انہیں کوئی عار نہیں ہے۔

محمد احسن لاہور کے متوسط علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل عمران ندیم کا کہنا ہے کہ ان کے زیادہ تر صارفین غریب اور پسماندہ علاقوں میں ہیں اور کیبل لگوانے والا ہر صارف اضافی پچیس روپے اداکرنے کی سقت نہیں رکھتا۔

لیکن ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تمام صارف بخوشی ٹیکس ادا کرنے کو تیار ہوگئے تو یہ تحریک خود بخود ختم ہوجائے گی۔

اسی بارے میں
کیبل چینل بند
24 August, 2003 | صفحۂ اول
کشمیر ٹی وی، قرآن ٹی وی
04.09.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد