عراق میں تشدد صدام دور سے زیادہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے انسداد تشدد کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ عراق میں جسمانی تشدد صدام حسین کے دور حکومت سے بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہر مینفرڈ نووک نے عراق میں سکیورٹی اہلکاروں، مسلح گروہوں اور امریکہ مخالف شدت پسندوں کی جانب سے کئیے جانے والے جسمانی تشدد کی وجہ سے ملک میں صورتحال کو ’قابو سے باہر‘ قرار دیا ہے۔ عراق میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’بغداد کے مردہ خِانوں میں موجود کئی لاشوں پر اکثر شدید تشدد کے نشانات ملتے ہیں۔‘ مسٹر نووک کا کہنا ہے کہ ’زخموں کی نوعیت عراق سے آنے والے پناہ گزینوں کی اطلاعات کی تصدیق کرتے ہیں۔‘ انہوں نے جینیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’انہیں ابھی عراق جانا ہے لیکن ان کی معلومات کی بنیاد پوسٹ مارٹم رپورٹوں اور اردن آنے والے عراقی پناہ گزینوں سے ملنے والی معلومات پر مبنی ہیں‘ مسٹر نوک جو آسٹریا میں قانون کے پروفیسر بھی ہیں کہتے ہیں کہ ’جو کچھ لوگ بتاتے ہیں اس کے مطابق عراق میں جسمانی تشدد کی صورتحال قابو سے باہر ہے۔‘ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’زیر حراست افراد کے جسم پر اکثر بجلی کی تار سے مارپیٹ کے نشانات، سر اور نازک اعضاء پر زخم، ہاتھ اور پیروں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں اور بجلی اور سگریٹ سے داغے جانے کے شواہد ملتے ہیں۔‘ ’بغداد کے مردہ خانے سے ملنے والی اکثر لاشوں پر تیزاب سے لگنے والے زخم اور مختلف کیمیکل سے جلائے جانے کے نشانات بھی دیکھے گئے ہیں۔‘ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’کئی لاشوں سے کھال، آنکھیں یا دانت غائب ہوتے ہیں اور کچھ پر ڈرل مشین یا کیلوں کے ذریعے کئے جانے والے سوراخ بھی ملتے ہیں‘۔ ’جسمانی تشدد کا نشانہ بننے والی لاشیں مختلف ملیشیا گروہوں کے نجی جیلوں کے علاوہ عراق کی وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور امریکی افواج کے زیر انتظام چلنے والی جیلوں سے بھی آتی ہیں۔‘ مسٹر نووک نے صحافیوں کو بتایا کہ ’شدید ترین جسمانی تشدد کے شواہد مسلح ملیشا کی نجی جیلوں سے آنے والی لاشوں پر ملتے ہیں‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ قتل کی وارداتوں میں ملنے والی لاشوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکے ماورائے عدالت قتل سے پہلے انہیں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘۔ رپورٹ کے آخر میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ’تشدد کی وجہ سے ملک کی سلامتی کو شدید خطرہ ہے کیونکہ نشانہ بننے والے اپنا انتقام خود لیتے ہوئے ملک میں تشدد میں اضافہ کررہے ہیں‘۔ مسٹر نووک نے کہا ہے کہ وہ عراق جانا چاہتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں ایک درست رپورٹ مرتب کرنا ممکن نہیں کیونکہ بغداد کے انتہائی حفاظت والے علاقے گرین زون سے باہر جانا ممکن نہیں جہاں عراقی حکومت اور امریکی قیادت قلعہ بند ہے۔ | اسی بارے میں دورانِ تفتیش اذیت دینے پر پابندی15 December, 2005 | آس پاس قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: امریکہ05 May, 2006 | آس پاس عراق: خودکش حملہ، 35 ہلاک10 August, 2006 | آس پاس بغداد میں بیس زائرین ہلاک20 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||