دورانِ تفتیش اذیت دینے پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس اور امریکی سینیٹر جون مکین کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا ہے جس کے تحت مشتبہ غیر ملکی دہشت گردوں کو اذیت دینے اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے پر باقاعدہ پابندی عائد کر دی گی ہے۔ مکین نے جو کہ خود بھی ویتنام میں جنگی قیدی رہ چکے یہ ترمیم فوجی اخراجات کو کم کرنے کی مد میں تجویز کی تھی۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں نے بل کو صدر بش کی اس دھمکی کے باوجود پاس کیا جس کے تحت انہوں نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے قانون کو ویٹو کریں جس کے تحت تفتیش کے طریقۂ کار میں رکاوٹ آسکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس چاہتا تھا کہ سی آئی کے تفتیش کار اپنی مرضی سے تفتیش کریں۔
امریکی سینٹ اور ایوانِ نمائندگان میں رپبلکنز کا کنٹرول ہے اور اس فیصلے کو صدر بش کے لیے ایک طرح کی شرمندگی سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم صدر بش نے مشتبہ دہشت گردوں کو دورانِ تفتیش اذیت دینے کے خلاف قانون کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ اس معاہدے سے ’دنیا پر واضح ہو جائے گا کہ یہ حکومت تشدد نہیں کرتی اور اذیت سے متعلق بین الاقوامی قوانین کا پاس کرتی ہے وہ چاہے ملک کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک‘۔ مکین نے کہا کہ ’ہم نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ امریکہ دہشت گردوں کی طرح نہیں ہے‘۔ | اسی بارے میں ہم قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: بش07 November, 2005 | آس پاس فوج بدسلوکی سے باز رہے: سینیٹ06 October, 2005 | آس پاس گوانتاناموکاخاتمہ ضروری ہے: بلیئر22 November, 2005 | آس پاس گوانتانامو: قیدی بھوک ہڑتال پر07 October, 2005 | آس پاس ایمنسٹی رپورٹ میں امریکہ پر تنقید25 May, 2005 | آس پاس پینٹاگون الزامات کا جائزہ لے رہا ہے12 May, 2005 | آس پاس امریکی تشدد: معظم بیگ کا الزام25 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||