BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 May, 2005, 00:14 GMT 05:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پینٹاگون الزامات کا جائزہ لے رہا ہے
News image
افغانستان میں اس واقعے کے خلاف مظاہروں میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں
امریکی محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کا جائزہ لے رہا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ کیوبا کے خلیجِ گوانتانامو میں قائم امریکی قید خانے میں بعض تفتیش کاروں نے وہاں قید مسلمان قیدیوں کو زبان کھولنے پر مجبور کرنے کے لیے قرآن مجید کے تقدس کو پامال کیا۔

یہ الزامات سب سے پہلے امریکی رسالے نیوز ویک میں شائع ہوئے تھے۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کا معاملہ صدر جارج بش کی انتظامیہ کے لیے موجبِ پریشانی ہوگا۔

اور گوانتانامو بے کے حوالے سے جو باتیں حال ہی میں سامنے آئی ہیں اگرچہ وہ ابھی تک پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچیں، لیکن ان سے بش انتظامیہ کو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔

نیوز ویک میگزین کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گوانتانامو میں تفتیش کاروں نے مسلمان قیدیوں کی زبان کھلوانے کے لیے ان کی مقدس کتاب قرآن کو قیدیوں کے لیے بنے بیت الخلاء میں رکھا۔

میگزین نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایک موقع پر قرآن کو بیت الخلاء میں بہا دیا گیا۔

پینٹاگون کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان الزامات پر غور کیا جا رہا ہے لیکن یہ کہ ایسے دعوے قیدیوں کے ثقافتی اور مذہبی عقائد کے احترام سے متعلق ضوابط سے متصادم ہیں۔

ترجمان کے مطابق قیدیوں کو عبادت کا حق حاصل ہے، ان کے قرآن پڑھنے پر پابندی نہیں ہے اور مذہبی نقطۂ نگاہ سے ان کی خوراک کی ضروریات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں مقرر فوجی حکام کو اس بات کی تربیت دی گئی ہے کہ وہ قیدیوں کے انسانی وقار اور حقوق سے وابستہ قوانین کو اچھی طرح سمجھیں۔

کیمپ ڈیلٹا میں اس وقت بھی لگ بھگ پانچ سو افراد زیرِ حراست ہیں جن میں بہت سے قیدی وہ مسلمان ہیں جنہیں گیارہ ستمبر دو ہزار میں امریکہ پر ہونے والے حملوں کے بعد افغانستان یا پاکستان سے پکڑا گیا تھا۔

قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے والے چند ایک تفتیش کاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی ہے لیکن پینٹاگون کی خواہش ہے کہ مستقبل میں اس نوع کے واقعات کا اعادہ نہ ہو جن کے وقوع پذیر ہونے سے مسلمانانِ عالم کے جذبات برانگیختہ ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد