پینٹاگون الزامات کا جائزہ لے رہا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کا جائزہ لے رہا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ کیوبا کے خلیجِ گوانتانامو میں قائم امریکی قید خانے میں بعض تفتیش کاروں نے وہاں قید مسلمان قیدیوں کو زبان کھولنے پر مجبور کرنے کے لیے قرآن مجید کے تقدس کو پامال کیا۔ یہ الزامات سب سے پہلے امریکی رسالے نیوز ویک میں شائع ہوئے تھے۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کا معاملہ صدر جارج بش کی انتظامیہ کے لیے موجبِ پریشانی ہوگا۔ اور گوانتانامو بے کے حوالے سے جو باتیں حال ہی میں سامنے آئی ہیں اگرچہ وہ ابھی تک پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچیں، لیکن ان سے بش انتظامیہ کو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ نیوز ویک میگزین کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گوانتانامو میں تفتیش کاروں نے مسلمان قیدیوں کی زبان کھلوانے کے لیے ان کی مقدس کتاب قرآن کو قیدیوں کے لیے بنے بیت الخلاء میں رکھا۔ میگزین نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایک موقع پر قرآن کو بیت الخلاء میں بہا دیا گیا۔ پینٹاگون کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان الزامات پر غور کیا جا رہا ہے لیکن یہ کہ ایسے دعوے قیدیوں کے ثقافتی اور مذہبی عقائد کے احترام سے متعلق ضوابط سے متصادم ہیں۔ ترجمان کے مطابق قیدیوں کو عبادت کا حق حاصل ہے، ان کے قرآن پڑھنے پر پابندی نہیں ہے اور مذہبی نقطۂ نگاہ سے ان کی خوراک کی ضروریات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں مقرر فوجی حکام کو اس بات کی تربیت دی گئی ہے کہ وہ قیدیوں کے انسانی وقار اور حقوق سے وابستہ قوانین کو اچھی طرح سمجھیں۔ کیمپ ڈیلٹا میں اس وقت بھی لگ بھگ پانچ سو افراد زیرِ حراست ہیں جن میں بہت سے قیدی وہ مسلمان ہیں جنہیں گیارہ ستمبر دو ہزار میں امریکہ پر ہونے والے حملوں کے بعد افغانستان یا پاکستان سے پکڑا گیا تھا۔ قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے والے چند ایک تفتیش کاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی ہے لیکن پینٹاگون کی خواہش ہے کہ مستقبل میں اس نوع کے واقعات کا اعادہ نہ ہو جن کے وقوع پذیر ہونے سے مسلمانانِ عالم کے جذبات برانگیختہ ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||