واشنگٹن ٹائمز معافی مانگے: پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کے روز پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان نے متفقہ طور پر منظور کردہ قرار داد میں پاکستان کے بارے میں کارٹون شائع کرنے پر امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کی مذمت کی ہے اور اخبار سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کے چیمبر میں حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں نے ایک متفقہ قرارداد کے متن پر اتفاق کیا جو بعد میں سپیکر نے ایوان سے منظور کروائی۔ قرارداد میں پاکستان حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امریکی حکومت سے اس معاملے پر سخت احتجاج کرے کیونکہ کہ اس کی اشاعت سے ان کے بقول پورے پاکستان کی دل آزاری ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے واشنگٹن ٹائمز نے ایک کارٹون شائع کیا تھا جس میں ایک امریکی فوجی نے کتا پکڑ رکھا تھا۔ کتے کے اوپر لکھا ہوا ہے پاکستان۔ امریکی فوجی اس کتے پر اپنا دایاں ہاتھ رکھ کر اسے کہہ رہا ہے ’اچھے بچے: اب جاؤ بن لادن کو تلاش کرو۔‘
پیر کے روز جہاں پارلیمان کے ایوان زیریں نے اس کارٹون پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اسے پاکستان کی توہین قرار دیا وہاں دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بھی کارٹون شائع کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔ ترجمان نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کارٹون کی اشاعت کی تحقیقات کرائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ پہلے ہی اس کارٹون کی اشاعت پر اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر چکی ہے اور وہ اس سلسلے میں ایک ’ایڈوائیزری‘ بھی جاری کرنے والے ہیں۔ قبل ازیں جب قومی اسمبلی میں قرارداد منظور ہوئی تو متحدہ مجلس عمل کے رکن حافظ حسین احمد نے ایک جملہ کہا جو سپیکر نے کارروائی سے حذف کر دیا۔ مجلس عمل اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے سپیکر سے کہا کہ حافظ کا جملہ غیر پارلیمانی نہیں ہے۔ اس پر وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نے کہا کہ یہ قومی اسمبلی کا معزز ایوان ہے کوئی تھیٹر نہیں۔ وزیر قانون وصی ظفر نے کہا کہ اگر حافظ حسین کا اشارہ اپنے کسی رہنما کے بارے میں ہے تو پھر ٹھیک ہے لیکن انہیں ان کا نام بتانا ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||