جلال آباد احتجاج، پاکستانی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے شہر جلال آباد میں پاکستان کے قونصل خانے کی عمارت کو آگ لگانے کے خلاف حکومت نے سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کے روز اسلام آباد میں موجود افغانستان کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے انہیں حکومتی تشویش سے آگاہ کیا گیا اور کہا گیا کہ مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسا واقعہ نہ دہرایا جاسکے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ گوانتانامو بے کی جیل میں قرآن کی توہین کے خلاف جلال آباد میں ایک جلوس نے کئی عمارات کو آگ لگادی۔ جس میں پاکستان کے قونصل خانے کی عمارت بھی شامل ہے۔ ترجمان نے بتایا ہے کہ قونصل خانے کی عمارت کو تو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن عملے کے ارکان کو محفوظ طور پر وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق افغانستان کے سفیر نے دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جلوس پاکستان کے خلاف ہرگز نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے اتفاق کیا کہ اس موقع پر مناسب حفاظتی انتظامات ضروری تھے۔ دفتر خارجہ کے متعلقہ ایڈیشنل سیکریٹری نے افغانستان کے سفیر سے کہا کہ واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیں اور آئندہ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات بھی، تاکہ ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔ ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے سفیر نے واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے تحقیقات کرنے اور پاکستانی مشن کے حفاظتی اقدامات بھی مزید سخت کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت ختم کرنے اور شدت پسندوں کے خلاف امریکی حملے کی پاکستان نے مخالفت نہیں کی تھی اور پاکستان میں پناہ لینے والے سات سو کے قریب القائدہ اور طالبان کے مبینہ حامیوں کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے بھی کیا تھا۔ پاکستان کے کابل میں قائم سفارتخانے کو بھی اس سے پہلے نشانہ بنایا گیا تھا اور مشتعل جلوس نے حملہ کرکے عمارت کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||