بغداد میں بیس زائرین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں شیعوں کے آٹھویں امام موسٰی کاظم کی برسی کے موقع پر جمع ہونے والے افراد پر فائرنگ سے بیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ بغداد میں وزارتِ صحت کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں زائرین پر مسلح افراد کی فائرنگ سے بیس افراد ہلاک اور تین سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارتِ صحت اور پولیس نے اگرچہ مرنے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے تاہم یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ ہلاک شدگان اور زخمیوں میں سے زیادہ تر کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔
رائٹرز نے عراق کے وزیرِ دفاع جنرل عبدالقادر جسیم کے حوالے سے بتایا ہے کہ تیس مشتبہ شدت پسندوں کوگرفتار کر لیا گیا ہے اور زخمیوں میں چودہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس كاظميہ مسجد کے قریب امام موسٰی کاظم کی برسی کے جلوس میں بھگدڑ کے باعث ایک ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے اور سنیچر کو بھی کاظمیہ میں سات زائرین کوگولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے مزار کے آس پاس کی گلیوں کی ناکہ بندی کر دی تھی۔ ادھر عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے علماء سے کہا ہے کہ وہ لوگوں سے کہیں کہ وہ امام موسیٰ کاظم پر اعتقاد رکھنے والے باعقیدہ شیعہ کی حیثیت سے ہر اس چیز کے خلاف متحد ہو جائیں جو فرقہ وارانہ تصادم کو بھڑکاتی ہو۔ یہ بات انہوں نے امام موسٰی کاظم کی برسی پر ایک پیغام میں کہی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ تقریبات کو سیاسی مظاہروں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ امام موسٰی کاظم کی برسی کے موقع پر اس سال خصوصی حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں جن میں خاص طور پر عراقی دارالحکومت میں گاڑیوں پر پابندی کا نفاذ ہے۔ | اسی بارے میں فرقہ واریت: نور المالکی کا انتباہ20 August, 2006 | آس پاس شیعہ اجتماع، سکیورٹی سخت19 August, 2006 | آس پاس ’آپریشن ٹوگیدر فارورڈ‘ کتنا موثر؟16 August, 2006 | آس پاس امریکی: 26 عراقی ہلاک کیئے گئے12 August, 2006 | آس پاس عراق: خودکش حملہ، 35 ہلاک10 August, 2006 | آس پاس عراق کا مستقبل کیا؟10 August, 2006 | آس پاس عراق: امریکی ہیلی کاپٹر تباہ09 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||