عراق: خودکش حملہ، 35 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی عراق کے شہر نجف کے ایک بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں پینتیس افراد ہلاک جبکہ پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے لیس ایک خودکش بمبار نے پولیس چیک پوسٹ کے قریب خود کو بم سے اڑا دیا۔ دھماکہ حضرت علی کے روضے کے قریب ہوا ہے۔ شیعہ مسلمانوں میں حضرت علی کے روضے کو اہم مقام حاصل ہے اور زائرین کی بڑی تعداد روضے پر حاضری کے لیئے آتی ہے۔ نجف شیعہ اکثریتی علاقہ ہے اور یہ بغداد سے 160 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ سن 2003 میں عراق میں امریکی اتحادی فوج کے قبضے کے بعد سے یہاں کئی فرقہ وارنہ حملے ہوتے رہے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صبح جب حملہ ہوا تو اس وقت حضرت علی کے روضے کی طرف جانے والی گلیاں زائرین اور خریداروں سے بھری ہوئی تھیں۔ زائرین یہاں حضرت علی کی بیٹی کی برسی کے موقع پر جمع تھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور نے حضرت علی کے روضے کے قریب واقع مرکزی بازار کی داخلی پولیس چیک پوسٹ پر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ عراق کے ممتاز شیعہ رہنما آیت اللہ علی سیستانی کا دفتر حملے کی جگہ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔ عینی شاہدین اور اطلاعات کے مطابق شہر میں دھماکوں کے دو مختلف واقعات ہوئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق نجف اور اس کے جڑواں شہر کوفہ میں شیعہ گارڈز کا کڑا پہرہ ہے۔ جولائی میں کوفہ میں بھی اسی طرح کے ایک خودکش کار بم دھماکے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں نجف میں دھماکہ دس ہلاک06 April, 2006 | آس پاس نجف پر مفاہمت: حکومت کو قبول26 August, 2004 | آس پاس نجف: سیستانی کا امن منصوبہ26 August, 2004 | آس پاس نجف پر سکون 27 August, 2004 | آس پاس نجف مفاہمت: عراق کوکہاں لے جائیگی؟28 August, 2004 | آس پاس نجف بم دھماکے کی ویڈیو20 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||