نجف مفاہمت: عراق کوکہاں لے جائیگی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نجف میں ہونے والی مفاہمت عراق کو کہاں لے جائے گی؟ عراقی شیعیت کی طرف یا استحکام اور جمہوریت کی جانب جاری غیر یقینی پیش رفت کی طرف؟ عراقی وزیراعظم ایاد علاوی کے لیے یہ مفاہمت قدرے اطمینان بخش ہو سکتی ہے لیکن نجف محاصرے کا ایسا نتیجہ نہیں جس پر بہت خوش ہوا جا سکے، سچ تو یہ ہے کہ نجف کا مسئلہ اس طرح حل ہونے نے اس بات کو بھی اجاگر کر دیا ہے کہ علاوی حکومت کس قدر بااثر ثابت ہو سکتی ہے۔ امریکہ اور ایاد علاوی دونوں کی خواہش اور کوشش تھی کے مقتدیٰ الصدر کے حامیوں ’سورش‘ کا اختتام ایسی مفاہمت کی شکل میں نہیں نکلنا چاہیے جو ان کے لیے غیر اطمینان بخش ہو۔ یہی وجہ تھی کہ بحران کے دوران علاوی اور ان کے سرکردہ وزیر مقتدیٰ الصدر اور ان کے حامیوں کو روضۂ مقدس سے نکالنے کے لیے ایک ممکنہ فوجی حملے کے تناظر میں مفاہمت کی بات کرتے رہے لیکن جب اس حملے کا معاملہ مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا رہا تو ان کی ساکھ بھی شکوک و شبہات کے سائے میں آ گئی۔ اب ایک بار پھر مقتدیٰ الصدر کی عزت افزائی ہوئی ہے، ایک بار پھر ان کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکی اور ایک بار پھر انہوں نے اپنی مسلح جماعت کو ختم کرنے انکار کر دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ عراقی اہلِ تشیع میں الصدر کے حامیوں کی تعداد بہت کم ہو لیکن یہ نجف مفاہمت سے اس بات کو ضرور تقویت حاصل ہوئی ہے کہ وہ ایک ایسی قوت ہیں جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
لہذا کہا جا سکتا ہے کہ نجف مفاہمت ایک صلح ہے معاملے کا حل نہیں۔ اس سے حکومت کو سکھ کا سانس تو ملے گا لیکن عارضی۔ سلامتی کے محاذ پر علاوی اور کثیرالاقوامی امریکی سالاری افواج (جیسا کے اتحادی افواج کا نام اب بتایا جاتا ہے) کو اب بھی ان ہی چیلنجوں کا سامنا ہے جو انہیں اس سے پہلے درپیش تھے۔ سنی تشدد اس کے علاوہ ہے جس کا مرکز فلوجہ اور وہ دوسرے شہر ہیں جنہیں بغداد کے شمال اور مغرب میں سنی مثلث کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی طرح خود کش بمباری، مورٹر اور راکٹ حملے اور فائرنگ کے وہ واقعات ہیں جو نجف کے تین ہفتے کے ’ڈرامے‘ کی وجہ سے دب گئے تھے۔ شیعہ ہوں یا سنی یا دوسرا کوئی گروہ ان کے عضے او ناراضگی کو ہوا دینے کا ایک بڑا اور مشترک سبب عراق میں امریکہ کی فوجی موجودگی اور ایاد علاوی حکومت کا امریکی کٹھ پتلی ہونا ہے۔ اس کے علاوہ تشدد کا بڑا حصہ داخلی نوعیت کا ہے اور یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ باہر سے ’اسلامی جنگجو‘ بھی سرگرم ہیں۔ حال ہی میں دو وزیروں پر کیے جانے والے ناکام قاتلانہ حملوں کی ذمہ داری ابو مصیب الزرقاوی کا گروپ کر چکا ہے۔ اردن کے پیدائشی زرقاوی کی شخصیت غیر واضح ہے اور انہیں القاعدہ کا حلیف خیال کیا جاتا ہے۔ اہلِ تشیع نے امریکی کارروائی کے خلاف جس طیش کا اظہار کیا وہ بہت سے عراقی سُنیوں اور کردوں کے دل میں بھی ہوگا۔ انہوں نے مسلسل کئی راتوں اور دنوں تک ٹی وی کی اسکرین پر یک ایسے شہر کو تباہ ہوتے ہوئے اور لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے، جو ان کے لیے مقدس ہے۔
ہو سکتا ہے آیت اللہ سیستانی کی مداخلت پر غیر شیعہ عراقیوں میں ملے جلے جذبات پیدا ہوئے ہوں لیکن اس میں شک نہیں کہ اس مفاہمت سے انہیں بھی سکون محسوس ہوا ہو گا اگرچہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سنی اور کرد آیت اللہ سیستانی کے حاصل ہونے والے کردار پر خوش نہ ہوں۔ کیونکے ان میں سے بہت سے یہ محسوس کریں گے کہ نیا عراق پرانے عراق سے کہیں کم غیر مذہبی ہو گا۔ اس کے علاوہ انہیں شاید یہ بھی محسوس ہو کہ اب وہ دن لد چکے ہیں جب ملک کو سنی اشرافیہ چلا رہی تھی اور شیعہ اس کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ اب جب کہ حکومت جنوری میں ہونے والے پارلیمانی انتحابات کی تیاریاں کر رہی ہے اور عراق میں مردم شماری بھی جاری ہے ، اہلِ تشیع کو یقیناً یہ قوی امید ہو گی کہ اب یہ حقیقت سب پر کھل جائے گی کہ وہ ملک کی آبادی کا ساٹھ فی صد ہیں۔ آیت اللہ سیستانی نے اگرچہ کہا ہے کہ علما کو رہنمائی کرنی چاہیے حکمرانی نہیں۔ تاہم کیا ان کی اس بات پر تمام عراقیوں کو یقین آ سکے گا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||