’رعونت و حماقت‘ پر معافی طلبی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اعلیٰ امریکی اہلکار البرٹو فرنانڈس نے معافی کے ساتھ امریکی 'رعونت و حماقت' کا تبصرہ واپس لے لیا ہے۔ البرٹو فرنانڈس نے کہا تھا کہ امریکہ نے عراق میں ’رعونت و حماقت‘ کا ثبوت دیا ہے۔ فرنانڈس نے عربی ٹیلی ویژن الجزیرہ پر کیا تھا اور اب انہوں نے اسی چینل ے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ’انتہائی غلط گفتاری‘ سے کام لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تبصرہ دفترِ خارجہ کا موقف نہیں ہے۔ ان کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا تھا جب وائٹ ہاؤس نے وسطی مدت کے انتخاب کے پیش نظر انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ وسطی مدت کے انتخابات آئندہ ماہ ہو رہے ہیں۔ البرٹو فرنانڈز عربی زبان فراوانی سے بولتے ہیں اور وہ وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ کے امور سے متعلق پبلِک ڈِپلومیسی کے ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے کہا: ’یہ صرف امریکہ کی ہی ناکامی نہیں ہے، بلکہ یہ پورے خطے کے لیے تباہی ہے اور ساری دنیا ساے دیکھ رہی ہے‘۔ ’بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ عراق کے حوالے سے کڑی تنقید کا جواز ہے کیوں کہ بلاشبہ عراق میں امریکہ نے رعونت و حماقت کا مظاہرہ کیا ہے‘۔ اس تبصرے پر پہلے تو دفترِ خارجہ کے ترجمان سین میکورمک نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ البرٹو کا حوالہ غلط دیا جا رہا ہے۔ اب دفترِ خارجہ کی ویب سائٹ پر ان کا یہ بیان شائع کیا گیا ہے کہ ’میں جب اکجزیرہ پر اپنی گفتگو کا متن دیکھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ میں نے محورے کا انتہایی بے جا استعمال کیا اور یہ کہہ کر کہ ’امریکہ نے رعونت و حماقت کا مٌاہرہ کیا‘ غلط گفتاری کا شکار ہوا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے نہ تو میرے خیالات کی ترجمانی ہوتی ہے اور نہ ہی یہ دفترِ خارجہ کے موقف ہے۔ |
اسی بارے میں عراق، ویتنام موازنہ ہو سکتا ہے: بش19 October, 2006 | آس پاس حکمتِ عملی بدل سکتی ہے: بش21 October, 2006 | آس پاس عراق نہیں چھوڑیں گے: صدر بش 22 October, 2006 | آس پاس ’امریکہ آنکھیں بند نہ کرے‘ 20 September, 2006 | آس پاس ’صدام کا القاعدہ سے تعلق نہیں‘09 September, 2006 | آس پاس ’امریکہ حالتِ جنگ میں ہے‘05 September, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||