’عراق میں امریکی کامیابی ممکن ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں امریکی سفیر زلمے خلیلزاد نے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے باوجود عراق میں استحکام قائم کرنا ممکن ہے بشرط یہ کہ اس کے لیے مناسب مدت ہو۔ امریکی سفیر نے یہ بات امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جارج کیسی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ عراق میں حالیہ خونریزی کے بعد بہت سے امریکیوں نے عراق میں امریکی کامیابی کے امکان کو رد کرنا شروع کر دیا ہے لیکن ان کے بقول امریکہ کی کامیابی ممکن ہے۔ زلمے خلیلزاد کا کہنا تھا اس سلسلے میں نا صرف حکمت عملی میں تبدیلی لانی ہوگی بلکہ کوششیں بھی دگنی کرنا ہونگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی سکیورٹی سے متعلق وزارتوں میں اصلاحات کا ایک منصوبہ اس سال کے آخر تک تیار کر لیا جا ئے گا۔ اس موقع پر جنرل کیسی نے کہا کہ ایک سے ڈیڑھ سال کے اندر عراق کی سکیورٹی افواج پورے ملک کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ کام کم سے کم امریکی مدد کے ساتھ کر سکیں گے۔ تاہم امریکی کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ ایران اور شام عراق کے اندر سرگرم مسلح گروپوں کو اسلحہ فراہم کر کے یہ صورتحال ٹھیک کرنے میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو رہے۔‘ | اسی بارے میں ’رعونت و حماقت‘ پر معافی طلبی 23 October, 2006 | آس پاس عراق نہیں چھوڑیں گے: صدر بش 22 October, 2006 | آس پاس عراق میں امریکی ’تکبر اور بیوقوفی‘22 October, 2006 | آس پاس امریکی فوج کا سکیورٹی پلان ناکام19 October, 2006 | آس پاس عراق: 15 عراقی 5 امریکی ہلاک15 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||