BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 October, 2006, 04:47 GMT 09:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایذا رسانی کی بحث میں بش کود پڑے
صدر بش اور ڈک چینی
صدر بش نے یہ وضاحت نہیں کی کہ معلومات لینے کے لیے کون سی تکنیک استعمال کی جا سکتی ہے
امریکہ کے صدر بش نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایذا رسانی کی اجازت نہیں دیتی۔

ان کا یہ بیان امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی کے اس بیان کے بعد جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں ملزموں سے معلومات حاصل کرنے کے لیے انہیں پانی غوطے دینا جائز ہے۔

جب صدر بش سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا امریکہ نہ ایذا رسانی کا طریقہ استعمال کرتا ہے اور نہ کبھی ایسا کرے گا۔

ڈک چینی کے اس بیان سے واشنگٹن کے سرکاری حلقوں میں قیدیوں پر ایذا رسانی کے بارے میں ایکبار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔

ڈک چینی سے ایک ریڈیو پر انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ اگر معصوم شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے کسی کو غوطے دینے پڑیں تو کیا یہ ایک مشکل فیصلہ ہے تو ڈک چینی نے کہا کہ ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ ایسے میں غوطے دینا جائز ہے۔

امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے ڈک چینی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس طریقۂ کار کو جائز قرار دے رہے ہیں۔

بی بی سی کے واشنگٹن میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغانستان اور عراق میں امریکی جیلوں میں ایذا رسانی کی خبروں کے بعد یہ موضوع اکثر زیرِ بحث آیا ہے۔

چینی پر مقدمہ نہیں
چینی نے اتفاقاً اپنے دوست کو گولی ماری
اسی بارے میں
'تاریخ کا بدترین صدر'
09 May, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد