ایذا رسانی کی بحث میں بش کود پڑے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر بش نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایذا رسانی کی اجازت نہیں دیتی۔ ان کا یہ بیان امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی کے اس بیان کے بعد جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں ملزموں سے معلومات حاصل کرنے کے لیے انہیں پانی غوطے دینا جائز ہے۔ جب صدر بش سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا امریکہ نہ ایذا رسانی کا طریقہ استعمال کرتا ہے اور نہ کبھی ایسا کرے گا۔ ڈک چینی کے اس بیان سے واشنگٹن کے سرکاری حلقوں میں قیدیوں پر ایذا رسانی کے بارے میں ایکبار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ ڈک چینی سے ایک ریڈیو پر انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ اگر معصوم شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے کسی کو غوطے دینے پڑیں تو کیا یہ ایک مشکل فیصلہ ہے تو ڈک چینی نے کہا کہ ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ ایسے میں غوطے دینا جائز ہے۔ امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے ڈک چینی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس طریقۂ کار کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ بی بی سی کے واشنگٹن میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغانستان اور عراق میں امریکی جیلوں میں ایذا رسانی کی خبروں کے بعد یہ موضوع اکثر زیرِ بحث آیا ہے۔ |
اسی بارے میں عراق نہیں چھوڑیں گے: صدر بش 22 October, 2006 | آس پاس حکمتِ عملی بدل سکتی ہے: بش21 October, 2006 | آس پاس مشتبہ دہشتگردوں پر امریکی معاہدہ22 September, 2006 | آس پاس ’بم‘ فلائٹوں کے لیے بش کی معافی29 July, 2006 | آس پاس بش کی پرائیویٹ باتیں عام ہوگئیں18 July, 2006 | آس پاس 'تاریخ کا بدترین صدر'09 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||