مشتبہ دہشتگردوں پر امریکی معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ان کا ریپبلیکن پارٹی کے ناراض سینیٹروں سے مشتبہ دہشت گردوں سے تفتیش کے بارے میں قوانین پر سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے اس موضوع پر گرما گرم بحث ہو رہی تھی۔ صدر بش نے کہا کہ معاہدے کے بعد اب انتظامیہ فوجی ٹریبونل دوبارہ شروع کر دے گی جو کہ معطل کر دیئے گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے سینیٹ کی ایک کمیٹی نے مشتبہ دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ایک بل کی حمایت کی تھی۔ صدر بش نے کہا کہ معاہدے سے وہ پروگرام بچ جائے گا جس سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا پتہ لگا کر امریکیوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔ ابھی تک اس معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے سی آئی اے مشتبہ افراد سے تفتیش کرے گی، اور فوجی کمیشن بنائے جائیں گے جو ان افراد پر مقدمات کریں چلائیں گے۔ گوانتانامو بے کی جیل میں قید افراد پر مقدمے چلانے کے لیئے معاہدے کی اس شک کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ’باغی‘ سینیٹروں میں سے ایک جان مکین نے کہا ہے کہ صدر کے پاس اب دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیئے وہ اوزار ہاتھ آ گیا ہے جس کی انہیں ضرورت تھی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ریپپلیکن پارٹی دہشت گردی اور قومی سلامتی کے مسائل پر متحد نظر آنا چاہتی ہے تاکہ نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں کانگرس میں اپنی اکثریت برقرار رکھ سکے۔ | اسی بارے میں ری پبلیکن پارٹی: بش مخالف ووٹ14 September, 2006 | آس پاس خفیہ جیلیں: بش پرشدید تنقید06 September, 2006 | آس پاس جنرل اسمبلی سے بش کا خطاب19 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات07 September, 2006 | آس پاس اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالیں گے: بش12 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||