BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 September, 2006, 01:39 GMT 06:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالیں گے: بش
مبصرین کہتے ہیں کہ صدر بش کا خطاب سیاسی اہمیت کا حامل ہے
امریکی صدر جارج بش نے گیارہ ستمبر کی رات امریکی قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تہذیبوں کی جنگ نہیں بلکہ تہذیب کے لیئے کی جانے والی اکیسویں صدی کی نظریاتی جہد و جہد ہے۔

گیارہ ستمبر کی نسبت سے منعقد کی جانے والی تقریبات کے اختتام پر پیر کی رات خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں متحد ہو کر ان کا ساتھ دیں۔

اگر یہ جنگ نہ جیتی تو
 اگر ہم نے اپنے دشمن کو شکست نہ دی تو ہمارے بچوں کے سامنے ایک ایسا مشرقِ وسطیٰ ہوگا جہاں دہشت گرد ریاستیں اور ریڈیکل ڈکٹیٹر ہوں گے جو جوہری ہتھیاروں سے مسلح ہوں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کی تقدیر کا تعین کرے گی۔
صدر جارج بش

جارج بش نے آج تک امریکی قوم سے پانچ مرتبہ خطاب کیا ہے۔ پہلی بار انہوں نے امریکی قوم سے پانچ سال قبل گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد خطاب کیا تھا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں نہ صرف اسامہ بن لادن کا نام لیا بلکہ وعدہ کیا کہ اسامہ کو ڈھونڈ نکالا جائے گا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ آج سے دو تین سال قبل تک صدر بش اپنی تقریروں میں اسامہ بن لادن کا نام نہیں لیا کرتے تھے لیکن اب انہوں نے ایسا کرنا شروع کر دیا ہے۔

صدر بش نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ جاری ہے اسے امریکہ نے شروع نہیں کیا بلکہ ایک ایسے دشمن نے شروع کیا جسے آزاد قوموں کی روش پسند نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتہا پسند دشمن خطرناک ہے اور معصوم لوگوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے لیکن ’یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یا ہم نہیں جیت جاتے یا ہمارا دشمن نہیں جیت جاتا۔ ہم یہ جنگ جیتنے کے لیئے اپنی فوج کو ہر طرح کے وسائل فراہم کریں گے۔‘

صدر بش نے کہا:’اگر ہم نے اپنے دشمن کو شکست نہ دی تو ہمارے بچوں کے سامنے ایک ایسا مشرقِ وسطیٰ ہوگا جہاں دہشت گرد ریاستیں اور ریڈیکل ڈکٹیٹر ہوں گے جو جوہری ہتھیاروں سے مسلح ہوں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کی تقدیر کا تعین کرے گی۔

پندرہ منٹ کے خطاب میں امریکی صدر نے اصرار کیا کہ عراق بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک حصہ ہے کیونکہ امریکیوں کے محفوظ رہنے کا انحصار بغداد کی گلیوں میں لڑی جانے والی جنگ کے نتیجے پر ہے۔

انہوں نے معزول عراقی صدر صدام حسین کے القاعدہ کے ساتھ عدم تعلق کو تسلیم تو کیا لیکن کہا کہ صدام حسین کے بغیر عراق زیادہ محفوظ جگہ ہے کیونکہ معزول عراقی صدر واضح طور پر ایک خطرہ تھے۔ انہوں نے کہ عراق میں ’ہم سے غلطیاں ہوئی ہوں گی مگر اب سب سے بڑی غلطی یہ ہوگی کہ ہم وہاں سے نکل جائیں یہ سوچ کر کہ دشمن ہمارے پیچھے نہیں آئے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے، اسامہ بن لادن کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

اسی بارے میں
گیارہ ستمبر: پانچ سال بعد
10 September, 2006 | منظر نامہ
9/11: پاکستانی شہری امیر ہو گئے
11 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد