اگلا نشانہ اسرائیل، خلیجی ریاستیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور خلیج کی عرب ریاستیں اسلامی شدت پسندوں کا اگلا نشانہ ہوں گی۔ ایمن الظواہری کا تازہ ویڈیو عرب چینل الجزیرہ پر نشر کیا گیا ہے۔ ان کا بیان امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے پانچ سال مکمل ہونے پر سامنے آیا ہے۔ ایمن الظواہری کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کو اب اپنی فوجی طاقت عراق اور افغانستان کے دفاع کی بجائے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے دفاع میں لگانی چاہیئے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ وڈیو اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں ایمن الظواہری نے اپنے سابقہ ویڈیو پیغامات کی طرح خود کو محاذ جنگ پر موجود کسی جنگجو کی بجائے ایک دانش ور کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایمن الظواہری نے مصر پر الزام عائد کیا کہ اس نے دوسری عرب ریاستوں کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیل کو اس خطے پر حکمرانی کی اجازت دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل لبنان اور غزہ پر قبضے کے لیئے تیار ہو چکا ہے کیونکہ مصر نےاسرائیل کے ساتھ جاری محاذ آرائی مکمل طور پر ترک کر دی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی چھٹی شق میں مصر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملہ کرنے والی کسی عرب ریاست کی مدد نہیں کرے گا۔ چنانچہ سرکاری طور پر وہ (مصر) مشترکہ عرب دفاعی معاہدے سے دستبردار ہو گیا ہے، وہ معاہدہ جو بہت پہلے ہی دفن کیا جا چکا ہے‘۔ | اسی بارے میں القاعدہ کی کارروائی ہے: امریکی ماہرین 11 August, 2006 | آس پاس ’القاعدہ منصوبہ جیسا لگتا ہے‘10 August, 2006 | آس پاس ’القاعدہ نائب سربراہ گرفتار‘03 September, 2006 | آس پاس ’القاعدہ‘ کے چار ارکان گرفتار 29 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||