ری پبلیکن پارٹی: بش مخالف ووٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سینٹ کی ایک کمیٹی نے غیر ملکی مشتبہ دہشت گردوں کے مقدمات کی سماعت کے لیئے نئے اس قانون کی منظوری دے دی ہے جس کی صدر جارج بش مخالفت کر رہے تھے۔ پینل کے پندرہ ارکان نے بل کی حمایت میں ووٹ ڈال جبکہ نو نے اس کی مخالفت کی۔ امریکہ کے سابق سیکریٹری خارجہ کولن پاؤل نے ری پبلیکن پارٹی کے ان اراکین کی حمایت کی جنہوں نے صدر بش کے اس بل کے خلاف آواز اٹھائی جس کے تحت امریکی صدر گوانتانامو کے قیدیوں پر مقدمات چلانے کے لیئے فوجی ٹرائبیونلز کا قیام چاہتے تھے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے حکمراں جماعت میں اس تقسیم سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے نومبر میں امریکہ میں ہونے والے وسطی مدت کے انتخابات میں صدر بش کی جماعت کو دھچکا لگے گا۔ حکمراں جماعت کے چار سینیٹرز نے اپوزیشن ڈیموکریٹس کے ساتھ چلتے ہوئے اس بل کی حمایت کردی جسے صدر بش منظور کرانا چاہتے تھے اور جو اپنی نوعیت میں شدید تھا۔ اسے نئے بل پر کانگریس کے باغی اراکین کا اعتراض یہ تھا کہ اس کی وجہ سے مشتبہ دہشت گردوں پر قید خانوں میں بدترین سلوک روا رکھا جا سکے گا۔
ری پبلیکن پارٹی میں اس موضوع پر اختلافات ایسے وقت زیادہ بڑھ گئے ہیں جب امریکی صدر جارج بش اس قانون کے لیئے حمایت حاصل کرنے کے لیئے بذاتِ خود کانگریس میں گئے ہیں۔ اس وقت تین اہم اراکین کانگریس سینیٹرز جان مکین، جان وارنر اور لِنڈسے گراہم اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ بقول ان کے اس میں جنیوا کنونشن کی انتہائی محدود توضیح کی گئی ہے۔ ان اراکین نے اپنی جانب سے ایک نئے قانون کا مسودہ پیش کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری مسودہ منظور ہو گیا تو وہ تفتیش اور سزاؤں کے معیار سخت بنا دے گا جس کی وجہ سے امریکہ کی اخلاقی بدنامی ہو چکی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ کولن پاؤل نے جو حکمراں جماعت کے ان باغی اراکین کے حامی ہیں، کہا ہے کہ اس بل سے جینوا کنونشنز کی نئی تعریف سے امریکی فوجیوں کے لیئے خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔ نومبر کے انتخابات سے قبل امریکی کانگریس کے رخصت پر جانے میں اب دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں جس کے دوران اس کسی ایک مصالحانہ مسودے پر اتفاق کرنا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو گوانتانامو کے قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ لٹکا رہے گا اور قومی سلامتی کے مسئلے پر ری پبلیکن پارٹی کے اختلافات اس کے امیدواروں کے لیئے آئندہ انتخابات میں حالات کو مزید خراب کر دیں گے۔ | اسی بارے میں گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات07 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘30 June, 2006 | آس پاس ’گوانتانامو میں جو دیکھا‘ 23 July, 2006 | آس پاس گوانتانامو کے مقدمات مسترد29 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کی خود کشی10 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||