BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 September, 2006, 23:26 GMT 04:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ری پبلیکن پارٹی: بش مخالف ووٹ
اگر مصالحانہ مسودے پر اتفاق نہ ہوا تو گوانتانامو کے قیدیوں کی قسمت کے فیصلے میں تاخیر ہوگی
امریکہ میں سینٹ کی ایک کمیٹی نے غیر ملکی مشتبہ دہشت گردوں کے مقدمات کی سماعت کے لیئے نئے اس قانون کی منظوری دے دی ہے جس کی صدر جارج بش مخالفت کر رہے تھے۔

پینل کے پندرہ ارکان نے بل کی حمایت میں ووٹ ڈال جبکہ نو نے اس کی مخالفت کی۔

امریکہ کے سابق سیکریٹری خارجہ کولن پاؤل نے ری پبلیکن پارٹی کے ان اراکین کی حمایت کی جنہوں نے صدر بش کے اس بل کے خلاف آواز اٹھائی جس کے تحت امریکی صدر گوانتانامو کے قیدیوں پر مقدمات چلانے کے لیئے فوجی ٹرائبیونلز کا قیام چاہتے تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے حکمراں جماعت میں اس تقسیم سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے نومبر میں امریکہ میں ہونے والے وسطی مدت کے انتخابات میں صدر بش کی جماعت کو دھچکا لگے گا۔

حکمراں جماعت کے چار سینیٹرز نے اپوزیشن ڈیموکریٹس کے ساتھ چلتے ہوئے اس بل کی حمایت کردی جسے صدر بش منظور کرانا چاہتے تھے اور جو اپنی نوعیت میں شدید تھا۔

اسے نئے بل پر کانگریس کے باغی اراکین کا اعتراض یہ تھا کہ اس کی وجہ سے مشتبہ دہشت گردوں پر قید خانوں میں بدترین سلوک روا رکھا جا سکے گا۔

کولن پاؤل ’باغیوں‘ کے حامی
امریکہ کے سابق سیکٹری خارجہ کولن پاؤل نے ری پبلیکن پارٹی کے ان اراکین کی حمایت کی جنہوں نے صدر بش کے اس بل کے خلاف آواز اٹھائی جس کے تحت امریکی صدر گوانتانامو کے قیدیوں پر مقدمات چلانے کے لیئے فوجی ٹرائبیونلز کا قیام چاہتے تھے۔

ری پبلیکن پارٹی میں اس موضوع پر اختلافات ایسے وقت زیادہ بڑھ گئے ہیں جب امریکی صدر جارج بش اس قانون کے لیئے حمایت حاصل کرنے کے لیئے بذاتِ خود کانگریس میں گئے ہیں۔

اس وقت تین اہم اراکین کانگریس سینیٹرز جان مکین، جان وارنر اور لِنڈسے گراہم اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ بقول ان کے اس میں جنیوا کنونشن کی انتہائی محدود توضیح کی گئی ہے۔

ان اراکین نے اپنی جانب سے ایک نئے قانون کا مسودہ پیش کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری مسودہ منظور ہو گیا تو وہ تفتیش اور سزاؤں کے معیار سخت بنا دے گا جس کی وجہ سے امریکہ کی اخلاقی بدنامی ہو چکی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

کولن پاؤل نے جو حکمراں جماعت کے ان باغی اراکین کے حامی ہیں، کہا ہے کہ اس بل سے جینوا کنونشنز کی نئی تعریف سے امریکی فوجیوں کے لیئے خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔

نومبر کے انتخابات سے قبل امریکی کانگریس کے رخصت پر جانے میں اب دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں جس کے دوران اس کسی ایک مصالحانہ مسودے پر اتفاق کرنا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو گوانتانامو کے قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ لٹکا رہے گا اور قومی سلامتی کے مسئلے پر ری پبلیکن پارٹی کے اختلافات اس کے امیدواروں کے لیئے آئندہ انتخابات میں حالات کو مزید خراب کر دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد