BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 July, 2006, 08:29 GMT 13:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بم‘ فلائٹوں کے لیے بش کی معافی
برطانوی وزییراعظم ٹونی بلئیر امریکی صدر بش سے ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچے ہیں
برطانوی وزیراعظم کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جارج بش نے ٹونی بلیئر سے پیسٹوک ائر پورٹ کو اسرائیل کے لیے بم لے جانے والے امریکی
جہازوں کے ایندھن بھرنے کے لیے استعمال کرنے پر معافی مانگی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ بش نے یک سطری معافی نامے میں کہا کہ جہازوں کو ایندھن لینے کی اجازت کے مقررہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا گیا۔ برطانوی وزیراعظم نے جمعہ کو مشرق وسطی کے مسئلے پر امریکی صدر سے ایک ملاقات کی ہے۔

گلاسکو کے قریب پیسٹوک ائر پورٹ پر موجود بعض ائر کنٹرولرز نے ایندھن کے لیے ایسے جہازوں کے رکنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں بم موجود ہوں۔

توقع ہے کہ پیر کو اسرائیل کے لیے بم لے جانے والے جہازوں کے بارے میں کی جانی والی ایک تفتیش کے نتائج سامنے آ جائیں گے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی امریکی جہازوں کی لینڈنگ کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے جن کے بارے میں دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مجوزہ قوانین کا خیال نہیں رکھا گیا۔

وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر بش نے اس واقعے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں مجوزہ طریقہ نہیں اپنایا گیا۔

تفتیش سے یہ بات سامنے آئے گی فلائٹوں کے لیے اجازت ضروری تھی یا نہیں

انہوں نے بتایا کہ ان کی معافی یک سطری تھی اور اس میں صدر نے لکھا کہ صدر معافی مانگتے ہیں اس وقت کچھ مسئلہ تھا۔ ان کی معافی کا انداز بہت ہی باوقار تھا۔

بی بی سی سکاٹ لینڈ کےمطابق ائر پورٹ کے عملے نے امریکی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی پر یہ جان کر کے اس میں بم موجود ہیں ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔ دوسو کے قریب ائر ٹریفک کنٹرولرز کا کہنا تھا کہ اس قسم کے خاص جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کا کام ان کےلیے انہائی ناخوشگوار تھا۔یونین
اس سلسلے میں انتظامیہ تک اپنے خدشات پہنچانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

ایک ائر کنٹرولر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عموما ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ جہازوں میں کیا ہے مگر اس جہاز میں بم ہیں اس بات کو بڑی ڈھٹائی سے مشتہر کیا گیا۔ لوگ بہت ناخوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا واسطہ مستقل فوجی جہازوں سے پڑتا رہتا ہے۔ یہاں عملے کے افراد تربیت یافتہ ہیں مگر کچھ افراد اس قسم کےجہازوں کے لیے کام کرنے پر خوش نہیں ہیں۔

برطانوی خارجہ سیکرٹری مارگریٹ بیکٹ نے اس بارے میں امریکی حکومت کے سامنے خدشات اٹھائے ہیں۔ مارگریٹ بیکٹ کے امریکی جہازوں کی ان فلائٹوں پر ناخوشگواری کے اظہار پر وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اس بارے میں طریقہ کار کا خیال رکھا گیا۔

سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جیک کون ویل پر اس بات کے لیے دباؤ ہے کہ مستقبل میں اس قسم کے جہاز سکاٹ لینڈ کی سر زمین استعمال نہ کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد