بش کی پرائیویٹ باتیں عام ہوگئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینٹ پیٹرزبرگ میں جی ایٹ سربراہ کانفرس میں کھانے کی میز پر امریکی صدر جارج بش اور برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ موضوع تھا اسرائیل پر حزب اللہ کے راکٹ حملوں کا۔ باتوں باتوں میں صدر بش نے ایک ایسا لفظ بول دیا جو کھلے ہوئے مائیکروفون اور کمرے میں نصب کیمروں کے باعث پوری دنیا تک پہنچ گیا۔ صدر بش نے آخر کہا کیا تھا؟ پرائیویٹ گفتگو میں وہ ٹونی بلیئر سے کہہ رہے تھے: ’شام کو چاہیئے کہ وہ لبنان کے شدت پسندوں پر دباؤ ڈالے کہ وہ یہ غلیظ حرکتیں روکیں‘۔ صدر بش کی زبان سے شدت پسندوں کی ’حرکتوں‘ کے بیان کے لیئے دراصل ’shit‘ کا لفظ نکلا تھا۔ مائیکروفون پر لوگوں نے سنا کہ صدر جارج بش نے دورانِ گفتگو ٹونی بلیئر سے یہ کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس خطے کا دورہ کریں گی۔ اس موقع پر برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو کہتے سنا گیا کہ کونڈولیزا رائس کے مشن کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے بظاہر اس تجویز پر بھی بات چیت کی کہ اسرائیل پر حملے روکنے کے لیئے لبنان میں بین الاقوامی فوج روانہ کی جائے۔ باتوں کے دوران صدر بش نے کہا: ’ستم ظریفی یہ ہے کہ شام کے ذریعے حزب اللہ کو یہ کہلوانا پڑے گا کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز رہے۔‘ تاہم جونہی ٹونی بلئیر نے محسوس کیا کہ مائیکروفون کھلا ہوا ہے اور ان کی اور صدر بش کی باتیں سنی جا سکتیں ہیں، انہوں نے مائیکروفون بند کر دیا۔ جی ایٹ کانفرنس میں غور کیا جارہا ہے کہ گزشتہ ہفتے حزب اللہ کی جانب سے دو اسرائیلی فوجیوں کو پکڑنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال سے کیسے نمٹا جائے۔ | اسی بارے میں بیروت والے: کہیں کوئی گھرنہیں ہے17 July, 2006 | آس پاس اسرائیل کا دردِ سر۔ حزب اللہ17 July, 2006 | آس پاس مشرق وسطیٰ بحران کا حل آسان نہیں17 July, 2006 | آس پاس ’صرف ہمارے بچےنہیں مریں گے‘14 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||