ریپبلکن پارٹی کے انتخابی اجلاس میں ۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صبح کے آٹھ بجے ہیں۔ میں ریپبلکن پارٹی کے حامیوں کے ایک انتخابی اجلاس میں موجود ہوں۔ یہاں ریاست ورجنیا کے امریکی کانگریس کے ریپبلکن امیدوار اپنے ووٹرز سے خطاب کرنے آئے ہیں۔ یہاں آئے ہوئے سب ہی خواتین و حضرات اعلیٰ اور نفیس کپڑوں میں ملبوس صاحبِ حیثیت عیسائی قدامت پسند سفید فام امریکی ہیں۔ اجلاس کے آغاز میں سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنے ہاتھ باندھے، سر جھکائے اور باآوازِ بلند عیسائی دعا کی تلاوت کی۔ اس کے بعد سب نے اپنا رخ سامنے سٹیج پر موجود امریکی پرچم کی طرف کیا، اپنا دائیاں سینے پر رکھا اور امریکی پرچم کے ساتھ اپنی وفاداری کا حلف دہرایا۔ ریاست ورجنیا امریکہ کی ان چند اھم ریپبلیکن حامی ریاستوں میں ہے جہاں اس بار پورے ملک کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ یہاں صدر بش کے قریبی ساتھی سینیٹر جارج ایلن دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کے مد مقابل عراق جنگ کے بڑے مخالف ڈیموکریٹ امیدوار جم ویب ہیں۔ دونوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ تین مہینے پہلے تک سینیٹر جارج ایلن کی یہ سیٹ پکی ریپبلیکن سیٹ تصور کی جا رہی تھی لیکن انتخابی مہم کے دوران ان کے کچھ سکینڈل سامنے آنے کے بعد ان کی عوامی حمایت متاثر ہوئی ہے۔ اپنی گرتی ہوئی ساکھ سنبھالنے کے لئے سینیٹر جارج ایلن ریاست کے طوفانی دورے کر رہے ہیں۔ ان کے پاس وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ ریپبلیکن پارٹی والے صدر بش کی عراق پالیسی پر عوامی بےچینی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ صورتحال سے نمٹنے کےلئے ریپبلیکن پارٹی کی انتخابی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے زیادہ بات مقامی مسائل پر کی جائے۔ خارجہ پالیسی کے معاملات پر اول تو بات نہ کی جائے اور اگر کرنی پڑ جائے تو اسے امریکہ کو درپیش خطرات اور دہشتگردی کے خلاف جنگ تک ہی محدود رکھا جائے۔ یہاں ریپبلیکن سینیٹر جارج ایلن اپنے خطاب میں یہی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے عراق کا ذکر تقریباً گول کر جاتے ہیں۔ اپنے خطاب میں وہ اپنا دو نکاتی ایجنڈا دہراتے ہیں: معاشی ترقی کے لئے ٹیکسوں میں کمی کا وعدہ اور امریکہ کی سلامتی کی یقین دہانی!
لیکن امریکہ میں عراق پر جاری گرما گرم بحث کو روایتی ریپبلیکن کیسے دیکھ رہے ہیں؟ یہاں موجود ریپبلیکن ووٹر بیورلی گرنرکے نزدیک لوگ ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دینے کےلئے آئیں یا نہ آئیں ان کے نزدیک امریکہ کی سلامتی صرف ریپبلکن پارٹی ہی یقینی بنا سکتی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ مسلمانوں سمیت دنیا کی ایک بڑی آبادی کو کس طرح سمجھائیں گی کہ امریکہ کی عراق میں لڑائی ایک درست لڑائی ہے؟ جواب ملا ’ہمیں کسی کو امریکہ کی کاروائیوں کی صفائی پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مسلمان ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ جب چاہیں جس پر چاہیں حملے کریں۔ مسلمانوں کو اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی باتیں بند کرنی ہوں گی۔ امریکیوں سے ناپسندیدگی کی باتیں حتم کرنا ہوں گی۔‘ یہیں میری ملاقات ریپبلیکن پارٹی کی ایک اورضعیف سی ووٹر جوئین ٹرایئرز سے ہوئی۔ وہ پچھلے چالیس برس سے ہر الیکشن میں ریپبلیکن پارٹی کو ووٹ دیتی آئی ہیں۔ ان کے نزدیک امریکہ کو ہر حال میں عراق میں دہستگردی کے خلاف جنگ جیتنی ہوگی اور اس کے لئے دم چاہیئے ہوگا مذید خون بہانے کے لئے امریکہ کو تیار رہنا ہوگا۔ جوئین ٹرایئرز کی نظر میں یہ آخرکار ایک مذہبی جنگ ہے جس میں اسلام کا مقابلہ عیسائیوں اوریہودیوں کے ساتھ ہے۔ میں نے چلتے چلتے ان سے پوچھا تو گویا آپ اسے ان حالات کو تہذیبوں کے ٹکرائو کے طور پر دیکھتی ہیں؟ ضعیف سیخاتون کی آنکھوں میں چمک سی آگئی۔ انہوں پُر جوش لہجے میں کہا:’بلکل! عراق کے ساتھ بڑی ٹکر! ایران میں بڑا ٹکراؤ!‘ پچھلے چھ برس کے دوران صدر بش کی انتخابی کامیابیاں جوئین ٹرائررز جیسے کٹر قدامت پسند ریلپبلیکن ووٹروں کی مرہونِِ منت رہی ہے۔ اس بار دیکھنا یہ ہے امریکیوں میں عراق پر بڑھتی ہوئی بے چینی اس پکے ریپبلیکن ووٹ بینک کو بھی متاثر کر پاتی ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں امریکی انتخابات، اسامہ کا استعمال21 October, 2006 | آس پاس کانگریس انتخاب اور مسلمان امیدوار28 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||