وسط مدتی انتخابات اور دو امریکی ووٹر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے وسطی مدت کے حالیہ انتخابات میں جبکہ زیادہ تر امریکی ووٹر دو پارٹیوں ڈیموکریٹک اور ریپبلیکن میں بٹے ہوئے ہیں اس سمے ایسے بھی ووٹر ہیں جنہوں نے امریکی سیاستدانوں سے مایوس ہوکر ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ کیلیفورنیا میں ساں ڈیاگو کے نزدیک چھوٹے سے شہر لیمن گرو میں ایک امریکی مائیک سوان بھی ایسے لوگوں میں شامل ہیں۔ میں نے جب اس سابق معمار اور اب ایک اسٹور پر کیشيئر مارک سے پوچھا، ’الیکشن میں مارک تم کسے ووٹ دو گے؟‘ تو انہوں نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا: ’تم مجھ سے شرط لگالو میرا جواب سنکر پھر تم مجھ سے کبھی سوال نہیں کرو گے-‘ لیکن پھر میرے سوال دہرانے پر مارک سوان نے کہا: ’میں نے اس ملک (امریکہ) کی سیاست اور سیاستدانوں کے بارے میں اپنا فلسفہ تبدیل کردیا ہے۔ وہ سب کے سب کرپٹ ہیں۔ سیاست پیسے کا کھیل ہے اور میں نے اس دفعہ کسی بھی پارٹی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے-‘ مائیک نے بتایا کہ وہ فقط گزشتہ سال تک انتخابات میں ووٹ ڈالتے رہے تھے لیکن اب ووٹ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں۔ مائیک سوان برسوں سے ڈیموکریٹک پارٹی کے کٹر حامیوں میں سے رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ڈیموکریٹک پارٹی کےلئے کام بھی کرتے رہے تھے۔
پھر مائیک کہنے لگے: ’اینرون کارپوریٹ کرائیمز سے لیکر مارک فولی کے جنسی اسکنڈلز اور دونوں پارٹیوں کیطرف سے دونوں ایوانوں کو اسٹاک منڈی بنادینے تک مجھے ووٹ نہ دینے کا جواز ہے کہ امریکی سیاستدان کرپٹ ہو چکے ہیں-‘ حالیہ انتخابات میں گرمی بحث بنے ہوئے سیاسی اور سماجی ایشوز میں سے جب میں نے مائیک سوان سے جنگ عراق پر اس کے اپنے خیالات جاننے چاہے تو انہوں نے کہا: ’امریکہ ہی نہیں پوری دنیا ایک جنت تھی اور اسے جنت رہنا چاہیے۔ جنگ ٹھیک نہیں جس سے دنیا انسانوں کے لئے دوزخ بنتی ہے۔ عراق ہو یا کوئی ملک، امریکی ہو یا کسی اور قوم کا شہری میں جنگ کے خلاف ہوں-‘ جب امریکہ میں ہم جنس شادیوں کے متعلق میں نے ان کی رائے پوچھی تو اس نے کہا: ’میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ مجھے انسانوں اور ان کے آپس میں بندھنوں کے بارے میں فتوائيں نہیں دینی چاہیے۔ ہر کسی کو اپنی زندگی کے فیصلوں کا حق اور آزادی حاصل ہے اور ہونی بھی چاہیے-‘ امریکی ووٹوں یا سیاست میں عقیدے کے دخل پر مائیک کا کہنا تھا: ’امریکہ اور دنیا بھر میں عیسائیت، بدھ مت، اسلام، ہندو ہو یا یہودی مذہب تمام کے تمام انسانیت اور انسان کی فلاح کے لئے ہونے چاہیے نہ کے ان کے نام پر کشت وخون کرنے کو-‘ مائیک نے کہا: ’میرے خیالات سے اگرچہ بہت سے امریکی متفق نہیں ہونگے، اس میں اپنے ایسے خیالات صرف اپنی بہت قریبی دوستوں اور بیوی تک ہی محدود رکھتا ہوں-‘ مارک کا کہنا تھا کہ ان سے ان کے قریبی دوست تو نہیں لیکن انکی بیوی ان سے متفق ہے اور وہ بھی حالیہ انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالے گی-‘
میرے ایک سوال پر جوانا نے کہا: ’امریکہ کی آزادیاں برقرار رکھنے کےلئے میں ریپبلیکن پارٹی کو ہی ووٹ دوں گي کہ ریپبلیکن پارٹی کو ووٹ اور اس کی حمایت کرنے کی اتنی ضرورت مجھے پہلے کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے کیونکہ ریپبلیکن اور صدر بش امریکہ کو عالمی دہشتگردی سے بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں-‘ جوانا نے بتایا کہ اس کے کتنے ہی جاننے والے ڈیموکریٹس کے حامی اب ریپبلیکنس کو ووٹ دے رہے ہیں- ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’امریکہ نہ فقط عراق میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کےلئے گیا ہوا بلکہ اسے یسوع کی جنم بھومی مشرق وسطی کو بدی کی قوتوں سے بچانا بھی ہے-‘ جوانا نے بتایا کہ ’القاعدہ ہو یا حزب اللہ تمام مسلم انتہاپسند ایک ہیں جن کا مقصد امریکہ کو نقصان پہنچانا ہے جبکہ ریپبلیکن پارٹی اور صدر بش کا مقصد امریکہ کو ایسے خطرات سے بچانا ہے-‘ جوانا نے صدر بش کی طرف سے جنگ ویتنام کا موازنہ جنگ عراق سے کرنے والے اعتراف پر کہا: ’میں نہیں سمجھتی کہ جنگ ویتنام اور جنگ عراق ایک طرح کی ہیں- ویتنامی جنگ کے دوران اگرچہ میں بچی تھی لیکن اپنے بڑوں سے امریکی فوجیوں کا گھر واپسی پر برا استقبال سنا تھا لیکن اب پوری امریکی قوم ہماری افواج کے مرد اور خواتین کی حمایت کررہی ہےاور انکے لئے منتظر اور متفکر ہیں۔‘ ہم جنس شادیوں پر جوانا نے کہا: ’یہ بائیبل کی تعلیمات اور اور نارملٹی اور انسانی بندھن مرد اور عورت کے درمیاں بندھن کے عام امریکی تصور کے منافی ہیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||