BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 October, 2006, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: سرخ یا نیلا؟

امریکی پرچم
امریکہ میں ہونے والے انتخابات میں اگرچہ ووٹر اور ریاستیں نیلے (ڈیموکریٹس) اور لال ( ریپبلکنز) میں بٹے ہوئے ہیں لیکن ایک بڑی تیسری قوت بھی ہے جو امریکہ کے خاموش اکثیریت ہے اور یہ ہے ’نان ووٹرز‘ یا غیر ووٹرز کی۔

ظاہر ہے کہ امریکہ میں نان ووٹروں کی ایسی بڑی تعداد انتخابات اور حکومتی کاروبار کو ایسے نہیں دیکھتی جیسے ووٹر دیکھتے اور اسے بدلنے پر اپنا اثر رسوخ رکھنے والے بتائے جاتے ہیں۔

اگر امریکہ کے ان نان ووٹروں کو بھی ووٹ پر قدرت ہوتی تو یقینن باقی دنیا امریکہ کو ہر وقت ایسے نہیں دیکھتی جیسے ڈیموکریٹ کانگرس رکن نینسی پیلوسی باقی امریکہ سے دکھائی دیتی ہیں سوائے اسکے حلقے اور گھر والی ریاست کیلیفورنیا سے۔ اور وہ بھی اس کے اپنے گھر والے شہر سان فرانسسکو سے۔

اگر آئندہ ہفتے (سات نومبر کو) امریکی کانگرس میں ڈیموکریٹس اکثریت سے جیت آتے ہیں تو پھر اس کا سارا محور ریاست کیلیفورنیا ہوگي جہاں سے امریکی تاریخ میں پہلی بار کوئی عورت (نینسی پیلوسی) واشنگٹن کے کیپیٹل ہل پر ایوان نمائندگان کی سپیکر چنی جائے گي۔

ابھی کل ہی میں امریکی سابق صدر جِمی کارٹر کی کتاب ’امریکہ کے گنوائے ہوئے‎ اقدار‘ پڑھ رہا تھا جس میں انہوں نے ایشیا میں عورتوں کے سربراہان مملکت چنے جانے پر ان ملکوں کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اندرا گاندھی، گولڈا میئر، بینظیر بھٹو، کوری اکینو، حسینہ واجد، خالدہ ضیاء۔
حیرت ہے کہ امریکہ میں ماضی قریب تک عورت ووٹ کے حق بھی محروم رہی تھی !

اگرچہ اب ہیلری کلنٹن کے امریکی صدارت کے لیے کھڑے ہونے کے امکانات پر بحث بہت گردش میں ہے۔ کاش پاکستان میں مشرف یا کسی مرد آہن یا فولاد کی اولاد کی جگہ پاکستان کی صدر مختار مائی ہوتی!

بات ہورہی تھی امریکہ میں ووٹوں سے محروم خلق کی۔ ووٹوں سے محروم ایسے عوام میں ایک تو سب سے بڑی تعداد تارکین وطن کی ہے جو اپنی امیگریشن حیثیت کی وجہ سے ووٹ نہیں دے سکتے۔ ان میں غیر قانونی اور قانونی رہنے والے لیکن غیر شہری بھی شامل ہیں، تو بہت سی ریاستوں میں فیلنز یا سزا یافتہ لوگ بھی۔ ان سزا یافتہ لوگوں میں سب سے غالب اکثریت افریقی نژاد یا افریقی امریکی لوگوں کی ہے۔

سن دو ہزار دو کے انتخابات میں بش مخالف حلقے ہمیشہ صدر جارج ڈبلیو بش اور انکے ساتھیوں پر یہ الزامات لگاتے رہے ہیں کہ ریاست فلوریڈا میں ایسے امریکی افریقی لوگوں کو ووٹ سے پرے رکھ کر صدر بش نے اپنی اکثریت ثابت کی تھی۔ اسی لیے امریکہ میں لبرلز، ڈیموکریٹس اور بش اور ریپبلیکنز مخالف حلقے ہمیشہ سے سنہ دو ہزار کے صدارتی انتخابات کو ’چورائے ہوئے الیکشنز‘ کہتے آئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر کرنی ایسی ہوئی کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر دہشتگردوں کا حملہ ہوا اور اسی طرح صدر بش ایک حادثاتی صدر ہوتے ہوئے بھی چھا گۓ۔

امریکہ میں سنہ دو ہزار کے انتخابات نہ ہوئے پاکستان کے سنہ انیس سو نوے اور دوہزار دو والے انتخابات اور ریفرنڈم ہوئے۔ صدر بش کے بھاگ میں جنرل پرویز مشرف کی بھی لاٹری نکل آئی۔

’دہشتگرد ہماری دو تین عمارتوں کو تو تباہ کرسکتے ہیں لیکن وہ امریکہ کی بنیاد کو تباہ نہیں کرسکتے جو امریکی آئين اور آزادی پر رکھی ہوئی ہے‘ صدر بش نے گیارہ ستمبر کے دہشتگرد حملے کے فوراً بعد اپنی تقریر میں کہا تھا۔
لیکن گیارہ سمتبر کی بعد والی صدر بش اور انکے کانگریس میں پارٹی اکثریت کی حمایت سے جوڑی جانے والی پالیسوں اور قوانین کے مخالفوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ امریکہ کی بنیادیں ہلانے میں دہشتگرد (خدا نہ خواستہ) کامیاب ہوگۓ ہیں جہاں تک امریکہ میں شہری آزادیوں کا تعلق ہے-

 جنگ عراق، امریکہ میں ہونے والے حالیہ وسطی انتخابات میں وہ بڑا ایشو ہے جس سے انتخابی میدان میں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے

جنگ عراق، امریکہ میں ہونے والے حالیہ وسطی انتخابات میں وہ بڑا ایشو ہے جس سے انتخابی میدان میں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ عراق سے جلد از جلد امریکی فوجوں کی واپسی اور امریکی جانوں کا ضیاع یہ ایسے ایشوز ہیں جن پر امریکیوں کی اکثیریت صدر بش کی پالیسیوں کو ناپسند کرتے ہوئے دیکھی گئی ہے-

نیشنل پبلک ریڈیو بتا رہا تھا کہ عراق میں مارے جانے والے امریکی جوانوں میں بہت سے تارکین وطن ہیں جن میں اکثریت لاطینی اور ان میں پورٹو ریکو سے تھی۔ پورٹو ریکو امریکی ریاست نہیں مگر ٹیریٹری میں شامل ہے جہاں کے لوگوں کو امریکی صدارتی انتخابات میں ووٹ دینے کا حق نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پورٹو ریکن لوگوں کو نہ اپنا نمائندہ کانگرس میں چن کر بھیجنے کا اور نہ ہی اپنا کمانڈر اِن چیف چننے کا اختیارہے-‘

جنگ عراق، قطرینہ، ہمجنس شادیاں، اسقاط حمل، امیگریشن اور بارڈر کنٹرول، افرمیٹو ایکشن (یہ ایک طرح کا کوٹا سسٹم سمجھیں)، ٹارچر، سکولوں میں دعا پڑھنے، یہ ایسے ایشوز ہیں جن پر حالیہ وسطی انتخابات لڑے جار ہے ہیں-

’اسامہ بن لادن کہاں گیا؟‘ کچھ روز قبل نیویارک ٹائمز سمیت بڑے امریکی اخبارات میں ممتاز امریکی شہریوں کے طرف سے اشتہارات چھپوائے گۓ تھے جن میں بتایا گیا تھا اگر عراق میں صدر بش مداخلت نہ کرتے اور اپنے تمام وقت و وسائل گيارہ سمتبر کے مجرم دہشتگردوں کے خلاف استعمال کرتے تو اسامہ بن لادن اور اسکے ساتھی کب کے پکڑے گۓ ہوتے۔

رہا صدر بش کی افغانستان اور دہشگردی کے خلاف عالمی جنگ کا مسئلہ تو اس پر اکثر امریکی صدر بش سے اتفاق کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ کل شام تو میں نے شہر کے مشہور ’گے‘ بک سٹور پر بھی جنرل پرویز مشرف کی کتاب کی کاپیاں رکھے دیکھییں جہاں ویسے تو مائیکل مور سمیت بش مخالف کتابیں سجی دکھائی دیتی ہیں۔ اس ’آبلیسک‘ نامی بک سٹور کے بڑے شو کیس کے شیشوں پر مقامی تھیئٹر میں چلتے ’مڈل ایجڈ وائٹ گییئز‘ نام سے ایک ڈرامے کا پوسٹر لگا تھا جس میں صدر بش، ڈوناالڈ رمزفیلڈ، اور مقامی طور انتخاب لڑنے والے جیرالڈ میکسویل اور دو اور شخصیات کو الف ننگا دکھایا گیا تھا سوائے انکی آگے کی برہنگی کسی درخت کے پودے کے بجائے امریکی جھنڈے سے انکے ہاتھوں کو چھپاتے دکھائي گئي تھی۔ یہ ڈرامہ موجودہ امریکی سیاسی حالات پر ہے۔

اشتہارات اور مہم پر اب تک دونون ایک دوسرے کی مقابل پارٹیاں تین سو ملین ڈالرز جمع اور خرچ کرچکی ہیں۔ ایسے بھی فنڈ ریزر عام بات ہیں جہاں مرغی کی فی پلیٹ دس ہزار ڈالر میں بکی ہے۔

ورجینیا، ٹینی سی اور میسوری ریاستیں اس سرخ اور نیلی جنگ کے اصل معرکے ہیں-

اصل معرکہ ؟ میں نے کل تب سوچا جب شام پڑنے لگی تھی میں ’کیفے خیبر پاس‘ نامی ایک ریستوران سے گزرہا تھا جہاں اس افغان بے خانماں نیلی آنکھوں والی لڑکی کی وہ ایوارڈ یافتہ تصویر دیوار پر لگی تھی جو کوئی تیس سال قبل ’نیشنل جیاگرافک‘ کے فوٹو ایڈیٹر نے نکالی تھی جو اب پاکستان اور افغانستان میں رنگوں اور روشنیوں سے دلہنوں کی طرح سجی ٹرکوں سے لیکر یہاں امریکی فوٹو گیلیروں، میوزیئموں اور ریستورانوں میں سجی دیھکی جاتی ہے-

جس تصویر کے نیچے اس شام کیفے خیبر پاس ہل کریسٹ سان ڈیاگو میں دو سفید فام مرد میز پر روشن موم بتیوں سے ڈنر کررہے تھے۔ نہ جانے اب یہ لڑکی جنگ یا قحط میں مر کھپ گئی یا نانی دادی بن گئي ہوگي یا یہاں یا دنیا کے کسی اور ملک میں مہاجر ہوگی!!

کانگریس’کرپٹ کانگریس‘
امریکی انتخابات پرحسن مجتبی کا کالم
اسامہ بن لادنضمنی الیکشن
امریکی انتخابات میں اسامہ کا استعمال
صدر بش اور سینیٹر جارج ایلن ریاست ورجینیا:
ریپبلکن پارٹی کے ایک انتخابی اجلاس میں۔۔۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد